اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران اسرائیلی فوج کی بدترین ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ مستقبل کے لیے ان خامیوں سے سبق سیکھنا ناگزیر ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے اتوار کے روز جاری ہونے والے ایک فوجی بیان میں واضح کیا کہ 7 اکتوبر کا دن اسرائیلی عسکری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ ’اسرائیلی فوج اس دن بری طرح ناکام ہوئی، تاہم اب فوج دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے۔‘
حماس کی جانب سے کیے گئے اس تاریخی حملے کی برسی کے موقع پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس تباہی کے اسباب جاننے کے لیے شروع کی گئی تحقیقات اب اپنے حتمی مراحل میں ہیں۔
ماضی میں الجھنے کے بجائے آگے بڑھنے کا عزم
اسرائیلی فوج کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ محض ناکامیوں پر افسوس کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ بیان کے مطابق، ’ہمیں اس بڑی تباہی کے حجم کا بخوبی اندازہ ہے، تاہم ہمیں ان ناکامیوں میں ڈوبنے کے بجائے ان سے سیکھنا ہوگا، ان اسباق کو عملی جامہ پہنانا ہوگا اور ہر صورت آگے بڑھنا ہوگا۔‘
7 اکتوبر کا حملہ اور جانی نقصان
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر ایک غیر متوقع اور اچانک حملہ کیا تھا، جس نے اسرائیلی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کے جدید ترین نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
سرکاری اسرائیلی اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ کے مطابق اس ابتدائی حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے چند سب سے ہلاکت خیز دنوں میں شمار ہوتا ہے جس نے خطے کی سیاست کا مکمل طور پر رخ موڑ دیا۔
غزہ میں انسانی المیہ اور کھنڈرات
حماس کے اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر ایک وسیع، طویل اور تباہ کن فوجی جارحیت کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔
حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 74,200 سے زیادہ فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی ان اعداد و شمار کو مستند اور قابلِ اعتبار تسلیم کیا گیا ہے، جو ایک انتہائی سنگین انسانی المیے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
عسکری اور اسٹریٹجک حقائق
اسرائیلی آرمی چیف کا یہ اعتراف دراصل انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے اس شدید دباؤ کا نتیجہ ہے جو انہیں گزشتہ ایک سال سے اندرونی سطح پر درپیش ہے۔
دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ کے باوجود ایک عسکری گروہ کے ہاتھوں سرحدوں کا ٹوٹنا، اسرائیلی اسٹریٹجک ڈیٹرنس کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
7 اکتوبر کے واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ محض عسکری طاقت، آہنی گنبد اور جدید آلات کسی بھی ملک کے دفاع کی حتمی ضمانت نہیں ہو سکتے۔
اب اسرائیلی قیادت کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے سامنے سیکیورٹی کے اس خلا کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اور وہ مستقبل کے متوقع حملوں سے بچنے کے لیے اپنی فوجی ڈاکٹرائن میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔