متحدہ عرب امارات نے فلائی دبئی کی پرواز ہائی جیک کر کے تل ابیب کی عمارت سے ٹکرانے کی مبینہ سازش کے الزام پر 29 سالہ عمانی شریک پائلٹ حَمّام الحَمّامی کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس ہولناک منصوبے کا مقصد اسرائیلی شہر میں 11 ستمبر کی طرز کی تباہی پھیلانا تھا۔
اسرائیلی میڈیا ویب سائٹ ’وائے نیٹ‘ نے ایک اعلیٰ اماراتی ذریعے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں ایک انتہائی خطرناک منصوبہ رچا گیا۔
تحقیقاتی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ 29 سالہ عمانی شریک پائلٹ حَمّام الحَمّامی نے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے بھارتی نژاد کپتان سمت پر جان لیوا حملہ کیا۔
اطالوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کا بنیادی مقصد طیارے کا انجن بند کر کے اسے تل ابیب کی کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرانا تھا۔ ملزم مبینہ طور پر اس پوری کارروائی میں اکیلا ہی شامل تھا اور طیارے میں سوار تمام افراد کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔
اس واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے سیکیورٹی اداروں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ واقعے کی حساسیت کے پیشِ نظر اسرائیلی انٹیلی جنس کے اعلیٰ اہلکار فوری طور پر تحقیقات کا حصہ بننے کے لیے امارات پہنچ چکے ہیں۔
حکام اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا اس سازش کے تانے بانے کسی بین الاقوامی تنظیم سے ملتے ہیں یا یہ محض ایک فرد کا انفرادی عمل تھا۔
فضائی سیکیورٹی اور سفارتی تعلقات
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیانی تعلقات کی بحالی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر درجنوں مسافر پروازیں چل رہی ہیں۔
فضائی رابطوں کی اس بحالی نے خطے میں سفارتی تعلقات کو تو فروغ دیا ہے، لیکن ساتھ ہی سیکیورٹی کے نئے چیلنجز بھی پیدا کر دیے ہیں۔