خیبرپختونخوا میں احتساب کا نیا دور پی ٹی آئی دور حکومت میں ہاؤسنگ اتھارٹی میں رکھے گھوسٹ ملازمین فارغ کر دیے گئے، ایک کروڑ ماہانہ تنخواہ قومی خزانے سے جاتی تھی

خیبرپختونخوا میں احتساب کا نیا دور پی ٹی آئی دور حکومت میں ہاؤسنگ اتھارٹی میں رکھے گھوسٹ ملازمین فارغ کر دیے گئے، ایک کروڑ ماہانہ تنخواہ قومی خزانے سے جاتی تھی

خیبرپختونخوا میں سرکاری محکموں میں بے ضابطگیوں اور کرپشن کے خلاف محکمانہ کارروائیوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ محکمہ ہاؤسنگ میں مبینہ جعلی ورک چارج ملازمین کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے تمام ورک چارج ملازمین کو فارغ کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں، جبکہ بھرتیوں اور تنخواہوں کی ادائیگیوں سے متعلق شکایات کی تحقیقات کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی میں مبینہ طور پر بوگس یا گھوسٹ ورک چارج ملازمین کے نام پر ہر ماہ ایک کروڑ روپے سے زائد تنخواہوں کی مد میں جاری کیے جانے کی شکایات مسلسل سامنے آرہی تھیں۔ ان شکایات میں ملازمین کی بھرتیوں، تقرریوں اور تنخواہوں کی ادائیگیوں کے قانونی جواز پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کا جائزہ لینے پر اتھارٹی کے ایڈمنسٹریشن اور فنانس سیکشنز کے پاس مبینہ ورک چارج ملازمین کی بھرتیوں، تقرری ناموں اور مجاز اتھارٹی کی منظوری سے متعلق مستند دستاویزی ریکارڈ موجود نہ ہونے کی نشاندہی ہوئی۔ دونوں سیکشنز کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی مستند اور تسلی بخش ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں جس کے بعد معاملے پر فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:جمرود سے باجوڑ تک ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینا ہوگی، ملک صلاح الدین

ذرائع کے مطابق ایڈوائزری کونسل کے مشیر برائے ہاؤسنگ آصف رفیق آفریدی اور نو تعینات سیکرٹری ہاؤسنگ طاہر اورکزئی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ورک چارج ملازمین کو فارغ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل چھان بین اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے انکوائری کرانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

محکمانہ کارروائی کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ متعلقہ ملازمین کی بھرتیاں کس طریقہ کار کے تحت کی گئیں، ان کی تقرریوں کی منظوری کس مجاز اتھارٹی نے دی، تنخواہوں کی ادائیگیوں کے لیے کون سا ریکارڈ استعمال ہوا اور آیا سرکاری خزانے سے ہونے والے اخراجات قواعد و ضوابط کے مطابق تھے یا نہیں۔ انکوائری کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ طے ہوسکے گا کہ معاملے میں کتنی مالی بے ضابطگیاں ہوئیں اور اس کے لیے کون ذمہ دار ہے۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے تناظر میں سرکاری محکموں کی کارکردگی، انتظامی نظم و ضبط اور مالی معاملات کی نگرانی سے متعلق اقدامات اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ ہاؤسنگ اتھارٹی میں مبینہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے پر کارروائی کو سرکاری وسائل کے تحفظ اور محکموں میں شفافیت یقینی بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

تاہم اس معاملے میں حتمی حقائق انکوائری مکمل ہونے اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ اگر ملازمین کی بھرتیوں یا تنخواہوں کی ادائیگیوں میں قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون اور متعلقہ ضابطوں کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles