پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک تشکیل پا رہا ہے، اسمبلیوں سے استعفے دینے کی صورت میں 40 سے زیادہ ارکان ساتھ نہیں دیں گے، طارق فضل چوہدری

پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک تشکیل پا رہا ہے، اسمبلیوں سے استعفے دینے کی صورت میں 40 سے زیادہ ارکان ساتھ نہیں دیں گے، طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر فارورڈ بلاک تشکیل پا رہا ہے اور 40 سے زیادہ ارکان استعفوں کے فیصلے کی ہرگز حمایت نہیں کریں گے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر اندرونی اختلافات اور بڑھتی ہوئی بے چینی کے نتیجے میں ایک فارورڈ بلاک شکل اختیار کر رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کے سیاسی اثرات اور تبدیلیاں صرف وفاقی سطح تک محدود نہیں ہیں بلکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی پاکستان تحریک انصاف کا ایک مضبوط فارورڈ بلاک بننے کے قوی امکانات موجود ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرونی کشمکش اب صوبائی مقننہ تک پھیل چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی صوبہ چلانے میں ناکام ہوچکے، فوری استعفیٰ دیں، گورنر فیصل کریم کنڈی

وزیر نے واضح کیا کہ یہ بیانات ان کے سیاسی مشاہدے اور اطلاعات پر مبنی ہیں، تاہم اس سے پارٹی کے اندر موجود گہری دراڑیں اور اضطراب عیاں ہوتا ہے۔

استعفوں کی صورت میں 40 سے زیادہ ارکان کی مخالفت کا دعویٰ

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دوٹوک انداز میں دعویٰ کیا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اسمبلیوں سے اجتماعی استعفیٰ دینے کا کوئی فیصلہ کیا تو قومی اسمبلی میں اس جماعت کے 40 سے زیادہ اراکین اس فیصلے کی تائید نہیں کریں گے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پارٹی ارکان کو استعفے دینے کے فیصلوں پر بعد میں شدید پچھتاوے کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اب کچھ اراکین اس تجربے کو دوبارہ دہرانے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔

ان کے مطابق پارٹی کی موجودہ غیر لچکدار حکمت عملی اور فیصلوں سے پارٹی کے اپنے اندرونی حلقوں میں بھی گہری ناراضی پائی جاتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی پر کڑی تنقید

وفاقی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف کے مجموعی سیاسی طرزِ عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کوئی کب تک انتشار، کشمکش اور بدامنی پر مبنی سیاست کا ساتھ دے سکتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جلاؤ گھیراؤ اور تخریب کاری کی سیاست اب مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور عوام کے سامنے اس جماعت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگ بھی اس کی پالیسیوں سے سخت بیزار ہو چکے ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل کے پارلیمانی لائحہ عمل اور پارٹی کے صف اول کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی بازگشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کو پچھلے چند برسوں سے بالخصوص قومی اور صوبائی سطح پر شدید سیاسی دباؤ، احتجاجی تحریکوں اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے۔ 

ماضی میں استعفوں کے فیصلوں اور اس کے بعد پارلیمنٹ میں واپسی کے عمل نے پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط اور یکجہتی کو گہرے زخم دیے تھے۔

مزید پڑھیں:ایمر جنسی 12 اضلاع نہیں پورے صوبے میں لگے گی ، طارق فضل چوہدری نے وضاحت کر دی

اب جبکہ صوبائی اور وفاقی سطح پر سیاسی صف بندیاں تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں اور ارکان پارلیمنٹ کے مابین پالیسی معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں، پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک کے قیام کی افواہیں اور دعوے سیاسی منظر نامے پر اہم بحث کا محور بنے ہوئے ہیں۔

سیاسی میدان میں جب کوئی جماعت مسلسل احتجاج، محاذ آرائی اور دھرنوں کی سخت گیر حکمت عملی پر انحصار کرتی ہے، تو اس کے قانون سازوں کے اندر ایک ایسا طبقہ ضرور جنم لیتا ہے جو عملی سیاست، حلقے کے مفادات اور پارلیمانی موجودگی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کو اس وقت ایک دہرے اور سنگین چیلنج کا سامنا ہے، ایک طرف بیرونی دباؤ اور حکومتی کارروائیاں ہیں تو دوسری طرف اراکین اسمبلی کی سطح پر پائے جانے والے گہرے تحفظات ہیں۔

مزید پڑھیں:وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے، طارق فضل چوہدری

اگر واقعی 40 سے زیادہ ارکان استعفوں یا انتخابی بائیکاٹ جیسے فیصلوں سے کتراتے ہیں، تو یہ اس بات کا واضح غماز ہے کہ پارٹی کے اندر روایتی حکم عدولی کا دور کمزور پڑ رہا ہے۔

اس نوعیت کی اندرونی بغاوت یا فارورڈ بلاک کا ابھرنا نہ صرف پارلیمانی توازن کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے بلکہ صوبائی حکومتوں اور قانون ساز اداروں میں سیاسی وفاداریوں اور گروہ بندیوں کے ایک نئے باب کو بھی وا کر سکتا ہے۔

Related Articles