مذاکرات ناکام کیوں ہوے ،وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بڑا انکشاف کر دیا

مذاکرات ناکام کیوں ہوے ،وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بڑا انکشاف کر دیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے وفد کے پاس مکمل فیصلہ سازی کا مینڈیٹ موجود نہیں تھا، جبکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا بنیادی مقصد لانگ مارچ رکوانا نہیں بلکہ دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی یا صوبائی حکومت کا کوئی نمائندہ شامل ہوتا تو معاملات زیادہ بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ نہ پہلے حکومت کے لیے دردِ سر تھا اور نہ اب ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومتی وفد نے مذاکرات کے دوران دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پی ٹی آئی کے سامنے سات مطالبات رکھے اور واضح کیا کہ بتایا جائے ان میں سے کون سا مطالبہ غیر آئینی یا ناقابلِ عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی، آئین کے آرٹیکل 129، 148 اور 149 سے انحراف کے سوالات

انہوں نے کہا کہ حکومت کا پہلا مطالبہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشتگرد عناصر کی مذمت کرنا تھا، جبکہ دوسرا مطالبہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے تمام ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ تھا۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق تیسرا مطالبہ افغانستان سے متعلق طے شدہ خارجہ پالیسی پر عملدرآمد تھا، جبکہ چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق تھا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پانچویں مطالبے میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹے مطالبے میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران مسلح افواج کے ساتھ تعاون اور ساتویں مطالبے میں نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد شامل تھا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق مطالبات واضح طور پر سامنے رکھے، تاہم پی ٹی آئی کے وفد کے پاس مکمل فیصلہ سازی کا اختیار نہ ہونے کے باعث مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد سیاسی کشیدگی بڑھانا یا لانگ مارچ کے معاملے کو مرکزی مسئلہ بنانا نہیں تھا بلکہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا تھا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles