پاکستان کے خلاف بھارتی میڈیا کا زہریلا پروپیگنڈا ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا اور امریکی وزیر خارجہ نے لائیو شو میں بھارتی اینکر کو آئینہ دکھا دیا۔ پاک فوج اور ٹرمپ انتظامیہ کے روابط پر اٹھائے گئے اعتراضات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے مضبوط سفارتی روابط سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ گفتگو بھارتی میڈیا نیٹ ورک 18 کے گروپ ایڈیٹر اِن چیف راہول جوشی کو انٹرویو دیتے ہوئے کی۔ انٹرویو میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات، بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے اور خطے کی صورت حال سمیت اہم معاملات زیرِ بحث آئے۔
پاکستان پر سوال
بھارتی صحافی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور پاکستان کے درمیان بڑھتے رابطوں کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے بالخصوص پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ امریکی روابط کا حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں :ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے ، مارکو روبیو نے واضح کردیا
صحافی نے سوال کیا کہ آیا ان تعلقات کو امریکا کی سابقہ پالیسیوں سے جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 1970 کی دہائی میں پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کا حوالہ بھی دیا۔
مارکو روبیو نے اس موازنے سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1970 کی دہائی اور موجودہ دور کے حالات میں نمایاں فرق ہے۔ اس وقت سرد جنگ اور عالمی سیاست کی ایسی صورت حال تھی جو آج موجود نہیں۔
امریکا کا مؤقف
روبیو نے واضح کیا کہ امریکا کسی ملک کے ساتھ تعلقات کو بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کے مقابل نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ روابط کو بھارت کے خلاف نہیں سمجھتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رہنے چاہییں۔ تعلقات کے ذریعے ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی میں مدد مل سکتی ہے جو تنازع کا سبب بنیں۔
روبیو نے مزید کہا کہ اگر امریکا اپنا اثرورسوخ مثبت انداز میں استعمال کر سکے تو یہ خطے کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بھارتی قیادت اور عوام کے خدشات کے تناظر میں بھی اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔
ویزا پالیسی


