ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے ، مارکو روبیو نے واضح کردیا

ایران میں تبدیلی سے مراد نظام کا خاتمہ نہیں، رویوں میں تبدیلی ہے ، مارکو روبیو  نے واضح کردیا

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی‘ سے مراد لازمی طور پر حکومت کا مکمل خاتمہ نہیں، بلکہ اس کے کردار، نوعیت اور طرزِ عمل میں تبدیلی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مارکو روبیو کا کہنا تھا  کہ ممکن ہے ہم حکومت کی تبدیلی سے مراد مکمل اقتدار کا خاتمہ نہ دیکھیں، لیکن خود اس نظام کی نوعیت میں تبدیلی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کا رویہ ہمیشہ بیرونی مداخلت اور توسیع پسندانہ پالیسیوں پر مبنی رہا ہے، وہ صرف ایران پر حکمرانی نہیں کرنا چاہتے بلکہ پورے خطے پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتے ہیں، اس صورتحال کو تبدیل ہونا ہوگا اور اسے تبدیل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ان پر ایسا دباؤ ڈالا جائے جسے وہ مزید برداشت نہ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا مذاکرات کیلئے تیار، اب بھی ایران کیساتھ بحران کا حل چاہتا ہے ، مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی تبدیلی‘ اور ’نظام کی مکمل تبدیلی‘ کے درمیان عملی فرق موجود ہے کیونکہ ان کے مطابق کسی مخصوص معاہدے کے برعکس کسی حکومت کے رویے کو تبدیل کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کا کوئی واضح اختتامی نقطہ نہیں ہوتا۔

مارکو روبیو نے مزید واضح کرتے کہا کہ جوہری معاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اس پر عمل درآمد کی تصدیق بھی کی جا سکتی ہے تاہم کسی حکومت کو اپنی علاقائی حکمت عملی ترک کرنے پر مجبور کرنا ایک مسلسل عمل ہے، اس لیے اس دباؤ کے خاتمے کے لئے کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی جا سکتی۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ویک اینڈ پر ایران پر حملہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ، سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کیا، حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ جلد معاہدہ طے پا گیا تو حملہ نہیں ہوگا، اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا۔

editor

Related Articles