ایران نے امریکا کے ساتھ فوجی کشیدگی ختم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر کے ذریعے سفارتی رابطے جاری رکھنے کی تصدیق کردی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران اب بھی دونوں ممالک کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت، ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے انتظامات اور یمن تنازع میں ثالثی کی پیشکش سے متعلق بھی اہم مؤقف پیش کیا ہے۔
عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت اور وہاں بحری آمد و رفت کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بحری آمد و رفت کے حوالے سے اتفاق ہو چکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مخصوص راستوں کا نقشہ تیار کیا گیا ہے اور جب یہ آبی گزرگاہ کھولی جائے گی تو ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ راستہ ہی استعمال کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کی بندش یا وہاں بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا پاکستان اور قطر کے ذریعے امریکا سے رابطوں کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات میں کئی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران نے سفارتی رابطوں کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔
اس سے قبل پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کے ایران کے دورے کے دوران بھی علاقائی کشیدگی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے امکانات زیرِ بحث آئے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے تہران کی ثالثی کی پیشکش کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایران نے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم تاحال سعودی عرب اور حوثیوں کی جانب سے اس کا جواب موصول نہیں ہوا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات شروع کرانے اور تنازع کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
یمن میں جاری تنازع اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے حالات میں مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کی کوششیں مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یمن کے تنازع میں مصر کی ممکنہ فوجی مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق مصر ماضی میں تہران کو آگاہ کر چکا ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔ تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب کی حمایت کے لیے مصر کے ممکنہ اقدامات نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مصر میں سعودی عرب کے دفاع میں ممکنہ فوجی معاونت کے معاملے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کے خطے کی مجموعی صورت حال پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر عباس عراقچی کے بیان میں پاکستان اور قطر کے سفارتی کردار، آبنائے ہرمز کی صورت حال اور سعودی عرب و حوثیوں کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ رابطوں کی تصدیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فوجی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کے امکانات موجود ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے یا کشیدگی کے خاتمے کے بارے میں فی الحال کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔