وزیر مملکت کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے صوبے میں بہتر گورننس اور سمت کا تعین شروع ہو چکا ہے، تاہم 13 سالہ ناکامیوں کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔
وزیر مملکت کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے نفاذ کے ثمرات اب عوام تک پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کھیئل داس کوہستانی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے صوبے کے عوام اور پورے ملک کو اس کے مثبت نتائج مل رہے ہیں اور اب وہاں ایک واضح گورننس اور درست سمت نظر آنے لگی ہے جس پر کے پی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔
سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے دروازے ہمیشہ بات چیت کے لیے کھلے رہتے ہیں، لیکن اس وقت جو سب سے بڑا چیلنج اور ٹاسک درپیش ہے، وہ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہے۔
ماضی کی طرح ایک بار پھر ریاست کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضربِ عضب اور ردِ الفساد کی طرز پر اس وقت انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) جاری ہیں جن کے ذریعے تخریب کاروں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا کا یہ سیاسی منظرنامہ پچھلے 13 برسوں کے دوران ہونے والے فیصلوں اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔
صوبے میں طویل عرصے تک ایک ہی سیاسی جماعت کی حکومت رہی، جس دوران انتظامی چیلنجز، سیکیورٹی خدامات اور گورننس کے مسائل پر مختلف آرا پائی جاتی رہیں۔
موجودہ ہنگامی اقدامات اور گورنر راج کا فیصلہ اسی پس منظر میں اٹھایا گیا قدم ہے تاکہ انتظامی کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ صوبے میں جاری اس بحران اور انتظامی تبدیلی کے اثرات گہرے اور دور رس ہیں۔ سیاسی و عسکری سطح پر یہ بات اب عیاں ہو چکی ہے کہ محض چند دنوں یا سو دنوں میں برسوں پرانی کوتاہیوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
13 سال کی مبینہ سہولت کاری اور ناکامیوں کے بوجھ کو ہٹانے کے لیے ایک مستحکم، مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی درکار ہے۔
جہاں ایک طرف ریاست قانون کی بالادستی اور دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے پرعزم ہے، وہیں سیاسی مذاکرات کے امکانات کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت معاملات کو جمہوری اور انتظامی توازن کے ساتھ حل کرنے کی خواہاں ہے۔