پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) سے وابستہ اکاؤنٹس اور عناصر کی جانب سے بھارتی پورٹل کے گرافک کو پاک فوج سے منسوب کرکے پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا سراسر جھوٹ، فریب اور جعلسازی پر مبنی ہے۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک بھارتی ڈیجیٹل آؤٹ لیٹ کا گرافک شیئر کرکے انتہائی گمراہ کن اور من گھڑت بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔
اس مہم کے تحت ایک آرمی میجر کی مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں پر برطرفی کی خبر سے بھارت کا نام اور حوالہ دانستہ طور پر غائب کر کے یہ جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ واقعہ پاک فوج کے کسی افسر سے متعلق ہے۔ یہ دعویٰ حقائق کے بالکل برعکس اور سراسر جعلسازی ہے۔
تحقیقات اور مصدقہ حقائق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زیرِ گردش خبر اور گرافک دراصل ایک بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم (ایج نیوز ان) کی جانب سے شائع کیا گیا ہے، جہاں نام کے آخر میں موجود حروف کا تعلق براہ راست بھارت سے ہے۔
یہ پورا معاملہ بھارتی فوج کا ایک اندرونی اور عسکری تادیبی کیس ہے، جس کا پاکستان کی مسلح افواج یا اس کے کسی بھی شعبے سے دور دور تک کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔
قانونی ریکارڈ اور بھارتی میڈیا کے انکشافات
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق مصدقہ اور مستند بھارتی قانونی ریکارڈ کے ساتھ ساتھ معروف بھارتی میڈیا اداروں (بشمول این ڈی ٹی وی اور دی ڈیلی جاگرن) کی رپورٹس کے مطابق، 14 اکتوبر 2026ء سے 19 اکتوبر 2026ء کے دوران شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق 14 اکتوبر 2026ء کو بھارت کے آرمڈ فورسز ٹربیونل نے ایک اہم فیصلے میں بھارتی فوج کے اس میجر کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
مذکورہ افسر کو بھارتی آرمی چیف کی جانب سے بھارتی آرمی رولز 14 اور 19 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس کارروائی کی بنیادی وجہ دو بھارتی کرنلز کی بیویوں سمیت مختلف خواتین سے مبینہ ناجائز تعلقات کے اسکینڈل میں ملوث ہونا تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تمام کارروائی خالصتاً بھارتی عسکری نظام کے اندرونی قواعد و ضوابط کے تحت عمل میں لائی گئی۔
پروپیگنڈا کے محرکات اور مقاصد
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق بھارتی میڈیا کے اس گرافک میں، جو کہ مقامی بھارتی قارئین کے لیے شائع کیا گیا تھا اور جس میں عام اصطلاح ’آرمی میجر‘ استعمال کی گئی تھی، کو پاکستان میں لا کر اس کے تمام بھارتی روابط اور لنکس کو جان بوجھ کر چھپایا گیا۔
یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی سے وابستہ اکاؤنٹس اور مخصوص عناصر کی ایک سوچی سمجھی اور شرمناک کوشش ہے جس کا مقصد عام عوام کو گمراہ کرنا اور پاک فوج کی غیر متزلزل ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
بین الاقوامی اور سرحدی سطح پر اس طرح کے ہتھکنڈے ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں جہاں دوسرے ممالک کی افواج کے اندرونی کرپشن یا تادیبی اسکینڈلز کو ڈیجیٹل ایڈیٹنگ اور تراش خراش کے ذریعے مقامی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بھارتی عسکری اداروں کے اندر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر ہونے والی کارروائیوں کا ریکارڈ عوامی سطح پر موجود ہے، لیکن اس طرح کے حساس اور اندرونی عسکری معاملات کو توڑ موڑ کر پاکستان کے اندر ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کرنا ہائبرڈ جنگ کا ایک خطرناک حربہ ہے۔
جب کسی ملک کے اندر سیاسی تناؤ یا مفادات کی جنگ عروج پر ہو، تو بعض عناصر سچائی کو پسِ پشت ڈال کر بیرونِ ملک کے متفرق واقعات کو مقامی تناظر میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس قسم کی جھوٹی مہمات دراصل معاشرے میں ابہام پھیلانے اور عوام اور ریاستی اداروں کے مابین خلیج حائل کرنے کا گھناؤنا ذریعہ ہوتی ہیں۔
پیشہ ورانہ صحافت اور اخلاقی اقدار کا تقاضا یہ ہے کہ ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے بنیادی ماخذ اور حقائق کی جانچ پڑتال کی جائے، کیونکہ جعلسازی پر مبنی بیانیے عارضی سیاسی فائدے تو دے سکتے ہیں لیکن قومی سلامتی اور اجتماعی شعور کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔