بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی پر کڑا وار، سوال کرتے ہیں دہشتگردی کہاں سے آئی؟، یہ شرم کریں، اسمبلی میں ریمارکس

بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی پر کڑا وار، سوال کرتے ہیں دہشتگردی کہاں سے آئی؟، یہ شرم کریں، اسمبلی میں ریمارکس

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) پر تنقید کی اور ایمرجنسی کے باوجود سیاسی حل کے لیے حکومت و اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی، ساتھ یہ بھی کہا، پی ٹی آئی والے پوچھتے ہیں، دہشتگردی کہاں سے آئی، انہیں شرم آنی چاہیے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے بدھ کو خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کی قیادت سے دہشتگردی کے خلاف اس کے کردار اور سیاسی ترجیحات کے بارے میں سخت سوالات کیے۔

انہوں نے کہاکہ ’کیا میں نے ٹھیکہ اٹھایا ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام مسائل میرے ہیں؟‘ دہشتگردی سے متعلق تحریک انصاف کے سوالات پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ’سوال کرتے ہیں، دہشت گردی کہاں سے آئی؟ شرم کریں۔‘

یہ بھی پڑھیں:مئی 2025 میں فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے معرکۂ حق میں شاندار کامیابی حاصل کی، بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’پی ٹی آئی والو! آپ لانگ مارچ کر رہے تھے، کیا پیچھے دہشتگردی نہیں ہو رہی تھی؟ جواب دو۔‘

ان کے خطاب میں تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کے ساتھ سیاسی رابطے بحال کرنے کی پیشکش بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں حکومت اور اپوزیشن کو بات چیت کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

ایمرجنسی مشکل فیصلہ تھا، لیکن کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مشکل فیصلہ قرار دیا۔ ان کے بقول، حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ یہ آئینی قدم اٹھانے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور ملک میں دہشتگردی کے واقعات کے دوران خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔

ان کے مطابق، صوبے کے وزیراعلیٰ کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون نہ کرنے کے بیانات نے صورت حال مزید پیچیدہ بنائی۔

بلاول بھٹو زرداری نے صدر مملکت کے اقدامات اور صوبائی قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان حالات کے بعد ایمرجنسی کے فیصلے سے گریز کے لیے کوئی آئینی، قانونی یا سیاسی جواز باقی رہ گیا تھا؟

انہوں نے اس معاملے کو دہشتگردی کے خلاف ریاستی ذمہ داری سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکن اس جنگ میں قربانیاں دے چکے ہیں۔ اسی لیے ان کی جماعت کے لیے دہشتگردی کے مقابلے سے انکار کرنا ممکن نہیں۔

رات گئے بتایا گیا کہ مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں

بلاول بھٹو زرداری نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت کے 2 نمائندے مذاکراتی کمیٹی میں شامل تھے۔ ان کے مطابق، انہیں رات گئے اطلاع دی گئی تھی کہ بات چیت کامیابی کے قریب پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی اپوزیشن دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں اقدامات اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کے لیے آمادہ دکھائی دے رہی تھی۔

ان کے بیان کے مطابق، زیر غور تجویز یہ تھی کہ خیبر پختونخوا کے دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں صوبائی حکومت اپنا کردار ادا کرے۔

ساتھ ہی وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا باہمی معاہدے کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی طے کریں۔

مزید پڑھیں:آئین کے ارٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم کی حمایت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا اعلان

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس پیشرفت سے انہیں امید پیدا ہوئی تھی۔ وہ اسے ملکی سیاست میں ایک بڑی کامیابی کا امکان سمجھ رہے تھے، کیونکہ دہشتگردی جیسے اہم معاملے پر حکومت، اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہونے کی توقع تھی۔

سیاسی گنجائش محدود ہونے کی ذمہ داری دونوں طرف ہے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سیاسی جماعتوں کے لیے محدود ہوتی گنجائش پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک جماعت کی سیاسی گنجائش کم ہونے کے اثرات صرف اسی جماعت تک محدود نہیں رہتے۔

ان کے مطابق ایسی صورت حال تمام سیاسی جماعتوں، سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی سیاسی گنجائش کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے اس کی ذمہ داری حکومت کے ساتھ اپوزیشن پر بھی عائد کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود رابطے برقرار رہنے چاہییں۔ ان کے خطاب میں یہ مؤقف نمایاں تھا کہ دہشتگردی کے خلاف تعاون اور سیاسی مسائل کے حل کی کوششیں ایک ساتھ آگے بڑھائی جا سکتی ہیں۔

ایمرجنسی کے باوجود سیاسی حل تلاش کرنے کی اپیل

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش ختم نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے وزیراعظم، وفاقی حکومت، اپوزیشن قیادت اور سیاسی جماعتوں سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریق بات چیت کے ذریعے درمیانی راستہ نکالیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اس مقصد کے لیے ایک بار پھر ہاتھ بڑھانے کی پیشکش کی۔ ان کے خطاب میں پی ٹی آئی کے طرز عمل پر سخت اعتراضات کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

مذاکرات سے ایمرجنسی تک

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر حالیہ پیشرفت سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ قومی اسمبلی کے 2 اکتوبر کے سرکاری اعلامیے میں مذاکرات کا دوسرا دور 3 اکتوبر کو اسپیکر کے چیمبر میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے 3 اکتوبر کو بھی خیبر پختونخوا کے معاملے پر غیر معمولی آئینی اقدام سے پہلے سیاسی حل تلاش کرنے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے وفاق اور صوبے کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے معاہدے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

مزید پڑھیں:مسلم لیگ ن پی پی پی سے 27ویں آئینی ترمیم پر حمایت چاہتی ہے، بلاول بھٹو زرداری کی تصدیق

بعدازاں، 11 اکتوبر کو صدر مملکت کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، جس کی تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کی۔ 14 اکتوبر کو اس معاملے پر قومی اسمبلی میں کارروائی شروع ہوئی۔

مشترکہ حکمت عملی کے لیے اعتماد ضروری

بلاول بھٹو زرداری کے خطاب سے پیپلز پارٹی کی 2 ترجیحات سامنے آتی ہیں، دہشتگردی کے خلاف وفاقی اقدامات کی حمایت اور سیاسی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا۔

ایمرجنسی کو ناگزیر قرار دینے کے باوجود بات چیت کی پیشکش ظاہر کرتی ہے کہ ان کے مؤقف میں انتظامی اقدام کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی ضرورت بھی برقرار ہے۔

تاہم، مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف رابطے بحال ہونے پر نہیں ہوگا۔ وفاق اور صوبے کے کردار، مشترکہ اقدامات کی حدود اور طے شدہ نکات پر عمل درآمد کے بارے میں واضح اتفاق ضروری ہوگا۔ بلاول کے بیان کردہ مجوزہ معاہدے کی اہمیت بھی یہی ہے کہ اس کے ذریعے تعاون کی ذمہ داریاں متعین کی جا سکتی ہیں۔

پی ٹی آئی پر سخت تنقید اور اسے دوبارہ مذاکرات کی دعوت ایک ساتھ دینے سے سیاسی رابطے برقرار رکھنے کی گنجائش سامنے آتی ہے، لیکن تلخ بیانات باہمی اعتماد کو مشکل بھی بنا سکتے ہیں۔ آئندہ پیشرفت کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ فریق دہشت گردی کے خلاف تعاون کو اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود قابل عمل بنا پاتے ہیں یا نہیں۔

Related Articles