سینئر صحافی و تجزیہ کار حسن خان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان کے الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے گئے اثاثوں، ان کے گھر کی مالیت، ذرائع آمدن اور سیاسی کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 2024 میں ان کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 62 لاکھ روپے ظاہر کی گئی، جو ان کے بقول ان کے طرز زندگی اور اخراجات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
آزاد ڈیجیٹل کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حسن خان نے کہا کہ فضل الرحمان کے والد مفتی محمود وزیراعلیٰ رہ چکے تھے، جبکہ فضل الرحمان بھی سیاست میں آنے کے بعد مختلف حکومتوں کا حصہ رہے ہیں اور تقریباً 40 سے 45 سال سے سیاسی جماعت کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان کے گھر کی مالیت 47 لاکھ روپے ظاہر کیے جانے پر بھی سوال اٹھتا ہے۔
حسن خان نے کہا کہ فضل الرحمان ایک مذہبی اور سیاسی رہنما ہیں، اس لیے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عام سیاست دانوں کے مقابلے میں زیادہ سچائی اور شفافیت کا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فضل الرحمان کے اخراجات اور طرز زندگی کے مقابلے میں ظاہر کیے گئے اثاثوں کی مالیت کم دکھائی دیتی ہے تو ان کے ذرائع آمدن کیا ہیں۔
انہوں نے فضل الرحمان کے ذاتی ذرائع آمدن کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ ان کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں اور ان کی آمدن کے دیگر ذرائع کیا ہیں۔
حسن خان نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت پر بھی تنقید کی اور اسے خیبر پختونخوا کی تاریخ کی بدعنوان ترین حکومت قرار دیے جانے کا حوالہ دیا۔ ان کے بقول، پی ڈی ایم دور میں مبینہ کرپشن اور اقربا پروری کے باعث عوام نے تحریک انصاف کو دوبارہ منتخب کیا، جس کی ذمہ داری بھی وہ فضل الرحمان پر عائد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں وزیراعلیٰ کا کردار محدود تھا اور ان کے خیال میں گورنر غلام علی کے پاس زیادہ اختیارات تھے، جبکہ فضل الرحمان کا حکومتی معاملات میں اثر و رسوخ ہو سکتا تھا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں میں جمہوری روایات کے فقدان پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ متعدد جماعتوں کی قیادت خاندانی بنیادوں پر منتقل ہوتی ہے۔ حسن خان کے مطابق، فضل الرحمان کی جماعت میں بھی ان کی قیادت کے حوالے سے اختلاف یا تبدیلی کا تصور مشکل سمجھا جاتا ہے۔
حسن خان نے کہا کہ اگر اثاثوں کی تفصیلات میں غلط بیانی ہوئی ہے تو اس معاملے کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اثاثوں اور گوشواروں کے معاملات پر سیاست دانوں کی نااہلی کے فیصلے بھی سامنے آ چکے ہیں، اس لیے اس معاملے میں بھی متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
انہوں نے فضل الرحمان کے طرز زندگی، گاڑیوں اور اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان کے مالی معاملات اور آمدن کے ذرائع کیا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست کو روزگار کا ذریعہ قرار دینے کے بجائے سیاست دانوں کو اپنی آمدن اور اخراجات کی وضاحت کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ بعض افراد نظریاتی وابستگی نہ ہونے کے باوجود جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے سینیٹر کیسے منتخب ہوتے ہیں۔
حسن خان نے فضل الرحمان کے والد مفتی محمود کی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سادہ زندگی گزارنے والے شخص تھے، ان کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں تھی اور ان کے خلاف کرپشن کا الزام ثابت نہیں کیا جا سکا۔ ان کے بقول، موجودہ دور میں فضل الرحمان کے اثاثوں اور طرز زندگی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات ان کے لیے خود احتسابی کا موقع ہیں۔
انہوں نے سیاست دانوں میں اقتدار اور دولت کی خواہش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طاقت اور پیسے کی بھوک کبھی پوری نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق، فضل الرحمان طویل عرصے سے سیاست میں اہم مقام رکھتے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں اس نوعیت کی گفتگو ان کے لیے غور و فکر کا معاملہ ہونا چاہیے۔
حسن خان نے تحریک انصاف اور فضل الرحمان کے تعلقات میں تبدیلی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں تحریک انصاف کے رہنما فضل الرحمان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے، لیکن اب انہیں اپنے سیاسی معاملات میں ضامن اور ثالث کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال تحریک انصاف کے سابقہ مؤقف سے تضاد ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دے کر اپنی پوزیشن واضح کریں۔ حسن خان نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں فضل الرحمان ایک چالاک سیاست دان ہیں اور موجودہ سیاسی صورت حال میں ان کے کردار اور فیصلوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
