پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی آڈیو میں پارٹی قیادت کے حوالے سے سخت جملے سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے عمران خان کے احکامات کی مکمل پابندی کا اعادہ کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آڈیو میں علی امین گنڈاپور کہتے ہیں کہ عمران خان کا ہر حکم من و عن مانا ہے اور آئندہ بھی مانیں گے، ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے نظریے کے ساتھ کون کتنے عرصے سے کھڑا ہے اور کس نے کتنی تکالیف برداشت کی ہیں، یہ پوری قوم جانتی ہے۔
علی امین گنڈاپور نے آڈیو میں سلمان اکرم راجہ کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر الزامات لگانا اور انہیں سانپ یا سپولیا کہنا کسی کا اختیار نہیں، انہوں نے کہا کہ پارٹی میں یہ تماشا بند ہونا چاہیے اور متعلقہ رہنما کو اپنے الزامات پر معافی مانگنی پڑے گی۔
آڈیو میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے سلمان اکرم راجہ کوکہا کہ اگر عمران خان کی جانب سے دیا گیا عہدہ اور عزت آپ کو ہضم نہیں ہو رہی تو انہیں اس کا جواب دینا آتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ دوسروں کو اپنے پیچھے لگانے کے بجائے متعلقہ رہنما کو اپنے بیانات کا جواب دینا چاہیے۔
علی امین گنڈاپور نے پارٹی رہنماؤں کی قربانیوں اور سیاسی جدوجہد پر بھی سوالات اٹھائے، ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ آج نظریے اور قربانیوں کی بات کرتے ہیں، انہیں اپنی سیاسی جدوجہد بھی سامنے رکھنی چاہیے، انہوں نے پنجاب میں تحریکوں کے حوالے سے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سلمان راجہ نے کوئی تحریک نہیں چلائی اور لاہور میں بیٹھے رہے۔
آڈیو میں علی امین گنڈاپور نے معافی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ سلمان اکرم راجہ سے معافی منگوا کر دکھائیں گے انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ پارٹی عمران خان کی ہے، لیکن اسے کسی کی ذاتی ملکیت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا سلمان اکرم راجہ پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ پارٹی ہمارے باپ کی نہیں تو آپ کے باپ کی بھی نہیں ہے ،آپ ڈلیور نہیں کرسکے ،ہمیں دوسرا طریقہ بھی آتا ہے اپنی اوقات میں رہو،کے پی حکومت ختم ہونے کے بعد پی ٹی آئی میں دراڑیں شدید ہوگئیں ہیں اور رہنما ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔