فلور ملز کو زہریلی گندم فراہم کون کر رہا تھا؟ سہیل آفریدی کے دورِ حکومت کا سب سے بڑا فوڈ اسکینڈل سامنے آ گیا

خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے اضاخیل گوداموں میں ذخیرہ شدہ گندم کے معیار سے متعلق تشویش سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ گندم میں افلاٹاکسن کی موجودگی کی لیبارٹری رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے۔

اس انکشاف نے سرکاری گوداموں میں محفوظ غذائی اجناس کے معیار اور ان کی تقسیم کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ معاملے کی سنگینی اس لیے بھی اہم ہے کہ آلودہ گندم انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

تاحال فراہم کردہ مواد میں لیبارٹری رپورٹ کی مکمل نقل، نمونوں کی تعداد اور گندم کی مقدار کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ اس لیے ان پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق کے بغیر مزید حتمی دعوے کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

گندم میں افلاٹاکسن

افلاٹاکسن زہریلے مادے ہیں جو مخصوص اقسام کی پھپھوندی پیدا کرتی ہیں۔ یہ مادے نامناسب ذخیرہ کاری اور نمی جیسے حالات میں غذائی اجناس کو آلودہ کرسکتے ہیں۔

آلودہ خوراک کا استعمال انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے گندم میں افلاٹاکسن کی موجودگی کی اطلاع سامنے آنے پر متعلقہ حکام کی جانب سے فوری جانچ اور حفاظتی اقدامات اہم ہوجاتے ہیں۔

اگر اضاخیل گوداموں سے متعلق لیبارٹری رپورٹ میں بیان کردہ نتائج درست ہیں تو متاثرہ گندم کی ترسیل اور تقسیم کی صورتحال کی وضاحت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ جاننا بھی اہم ہوگا کہ ذخیرہ شدہ گندم کے معیار کی نگرانی کس طرح کی گئی۔

چھ گودام سیلاب سے متاثر

گورنر انسپکشن ٹیم کی انکوائری رپورٹ کے مطابق اضاخیل کا سرکاری گندم گودام تقریباً 150 کنال رقبے پر قائم ہے۔ معائنے کے دوران دو بلاکس میں واقع چھ گودام سیلابی پانی سے متاثر پائے گئے۔

 

رپورٹ کے مطابق متاثرہ گندم کے نمونے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی لیبارٹری کو بھجوائے گئے تھے۔ لیبارٹری نے گندم کو انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں قرار دیا۔

 

انکوائری میں گودام کو سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے کے انتظامات میں خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سیلابی پانی حفاظتی دیوار میں موجود سوراخوں سے اندر داخل ہوا تھا۔

گورنر کا اہم حکم

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے متاثرہ گندم کی فلور ملز کو فراہمی فوری روکنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے معاملے میں ذمہ داری کا تعین کرنے اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی پر بھی زور دیا۔

انکوائری رپورٹ میں غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں متاثرہ گندم کی فراہمی روکنے اور ذخائر کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔

سابقہ حکومت پر سوالات

اس معاملے نے صوبے میں سرکاری گندم کے ذخائر کی نگرانی اور خوراک کے معیار کو یقینی بنانے کے انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم دستیاب رپورٹ کی بنیاد پر کسی مخصوص سیاسی شخصیت کو براہ راست ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یا ان کی سابقہ صوبائی حکومت کی انفرادی ذمہ داری طے کرنے کے لیے متعلقہ دور کے انتظامی ریکارڈ، ذمہ دار افسران اور فیصلوں کی تفصیلات درکار ہوں گی۔

عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ گندم کی مقدار، اس کی تقسیم کی سابقہ تفصیلات اور ذمہ دار اہلکاروں سے متعلق نتائج واضح کیے جائیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ ناقص گندم فلور ملز تک پہنچی یا نہیں

editor

Related Articles