خیبر پختونخوا میں بڑا انتظامی فیصلہ، ایم پی او کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو دینے کی منظوری

خیبر پختونخوا میں ایم پی او کے تحت احتیاطی گرفتاری اور حراست کے اختیارات ضلعی سطح پر منتقل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو متعلقہ اختیارات سونپنے کی تجویز ہے تاکہ پولیس کی جانب سے موصول ہونے والے معاملات پر جلد کارروائی ہوسکے۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد محکمہ داخلہ کے مرکزی دفتری عمل کے باعث ہونے والی تاخیر کم کرنا ہے۔ نئی انتظامی ترتیب کے تحت ضلعی حکام کو متعلقہ معاملات پر فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

اختیارات کی منتقلی

گورنر کی منظوری کے مطابق ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیارات ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی جانب سے موصول ہونے والے معاملات میں استعمال کرنے کے لیے دیے جائیں گے۔ اس سے کارروائی کا عمل ضلعی سطح پر آگے بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

اس سے پہلے 2025 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ اختیارات ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ کو تفویض کیے گئے تھے۔ نئی تجویز کے مطابق سابقہ نوٹیفکیشن کی جگہ ڈپٹی کمشنرز کو اختیارات دینے کا انتظام کیا جائے گا۔

قانونی بنیاد

دستیاب دستاویز کے مطابق اس تجویز کی بنیاد ایم پی او آرڈیننس کی دفعہ 26 اور آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ہنگامی انتظامی فریم ورک پر رکھی گئی ہے۔ ان قانونی حوالوں کو اختیارات کی منتقلی کے لیے بنیاد بنایا گیا ہے۔

 نوٹیفکیشن اہم ہوگا

اس معاملے میں منظوری اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے اجرا میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق منظوری ریکارڈ پر موجود ہے، لیکن مسودے میں تاریخ اور حوالہ نمبر درج نہیں کیے گئے۔

لہٰذا یہ واضح نہیں کہ حتمی نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے یا اس کا اجرا ابھی باقی ہے۔ باضابطہ نوٹیفکیشن سامنے آنے کے بعد اختیارات کی منتقلی کی حتمی صورت اور اس کے نفاذ کی تفصیلات واضح ہوسکیں گی۔

ضلعی سطح پر کیا بدلے گا؟

مجوزہ انتظام کے تحت ڈسٹرکٹ پولیس افسران سے موصول ہونے والے معاملات پر کارروائی کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو اختیار دیا جائے گا۔ اس کا مقصد انتظامی مراحل کم کرکے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

موجودہ طریقہ کار میں معاملات محکمہ داخلہ کے مرکزی نظام سے گزرتے ہیں۔ نئی ترتیب اسی عمل میں تاخیر کم کرنے کے لیے تجویز کی گئی ہے۔

editor

Related Articles