گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد خیبرپختونخوا میں انتظامی تبدیلیوں سے متعلق بحث شروع ہوگئی ہے۔ صحافی غریدہ فاروقی نے پشاور کی صفائی اور شہری مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے سابقہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
غریدہ فاروقی کے مطابق خیبرپختونخوا میں اب کام ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو پشاور کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے سے کس نے روکا تھا۔
پی ٹی آئی سے سوال
غریدہ فاروقی نے پشاور کی صفائی اور گٹروں کی صفائی کا ذکر کرتے ہوئے سابقہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو کس نے روکا تھا کہ وہ شہر کی صفائی نہ کرے اور گٹر صاف نہ کروائے۔
ان کے بیان میں شہری صفائی کو حکومتی کارکردگی کا اہم پیمانہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے اس معاملے کو خیبرپختونخوا میں انتظامی اقدامات اور سیاسی دعوؤں کے تناظر میں پیش کیا۔
سندھ کا حوالہ
غریدہ فاروقی نے سندھ میں صفائی کے معاملات پر ہونے والی تنقید کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق سندھ کے معاملے پر بہت شور شرابہ کیا جاتا تھا، لیکن اب خیبرپختونخوا میں کام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے گورنر فیصل کریم کنڈی اور ان کی ٹیم کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کے نتائج نظر آ رہے ہیں۔
انتظامی کارکردگی پر بحث
غریدہ فاروقی کے بیان نے خیبرپختونخوا میں صفائی، نکاسی آب اور حکومتی کارکردگی کے تقابل کو نمایاں کیا ہے۔ ان کی تنقید کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ شہری مسائل حل کرنے کے لیے پہلے بھی اقدامات کیے جاسکتے تھے۔
تاہم پشاور میں صفائی کی صورتحال میں بہتری کی نوعیت اور اس کے پیمانے کا تعین کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور زمینی شواہد کا جائزہ ضروری ہے۔
