بھارت میں ووٹر فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے جانے کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اور الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران انتخابی عمل کی شفافیت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مظاہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے اہل ووٹرز کے حقِ انتخاب کو نقصان پہنچا ہے اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارت میں ووٹر فہرستوں کی جانچ پڑتال اور نظرثانی کے عمل کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے گئے، جس کے بعد مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے نام خارج ہونے کے باعث بڑی تعداد میں شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں۔ اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں اور نوجوانوں کی تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے
احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور ان اقدامات سے مودی حکومت کو سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مظاہرین کے مطابق جمہوریت میں ووٹ شہریوں کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی اہل شہری کو انتظامی کارروائیوں یا غیر شفاف طریقہ کار کے نتیجے میں اس حق سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق نئی دہلی سمیت مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس نے متعدد کارکنوں اور نوجوان رہنماؤں کو حراست میں لیا، جبکہ مظاہروں کو روکنے کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے۔ احتجاجی تنظیموں نے حکام کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور جن اہل شہریوں کے نام غلط طور پر خارج ہوئے ہیں، انہیں دوبارہ فہرستوں میں شامل کیا جائے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ جمہوری نظام کی ساکھ صرف انتخابات کے انعقاد سے قائم نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر اہل شہری کو بلاامتیاز ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ناموں کی درستگی کے لیے ایسا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے جس میں حقیقی ووٹرز کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے حوالے سے سیاسی جانبداری کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد فوت شدہ، نقل مکانی کرنے والے، دہرے اندراج والے اور دیگر نااہل ووٹرز کے اندراجات کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج اور بعض شہریوں کی جانب سے غلط طور پر نام حذف ہونے کی شکایات نے اس عمل کی شفافیت سے متعلق بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔
بھارت میں ووٹر فہرستوں کا معاملہ اب محض انتظامی کارروائی تک محدود نہیں رہا بلکہ انتخابی شفافیت، الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور شہریوں کے آئینی حقوق سے متعلق ایک اہم سیاسی تنازع بن چکا ہے۔ احتجاجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ انتخابی فہرستوں کی جامع جانچ پڑتال، شکایات کے ازالے اور اہل ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔