جمہوریت کے خود ساختہ علم بردار جاوید ہاشمی کے اثاثوں کی تفصیلات نے ہلا کر رکھ دیا، 175 ایکڑ زمین، تین پجارو گاڑیاں ، 20 لاکھ کے پرائز بانڈز،بنگلہ اور ملتان کینٹ میں اربوں کی جائیدادیں اور فیکٹریوں کا انکشاف
Home - آزاد انتخاب - جمہوریت کے خود ساختہ علم بردار جاوید ہاشمی کے اثاثوں کی تفصیلات نے ہلا کر رکھ دیا، 175 ایکڑ زمین، تین پجارو گاڑیاں ، 20 لاکھ کے پرائز بانڈز،بنگلہ اور ملتان کینٹ میں اربوں کی جائیدادیں اور فیکٹریوں کا انکشاف
جمہوریت کے جعلی علم بردار جاوید ہاشمی کے اثاثوں کی تفصیلات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے، نیب ریفرنس میں 175 ایکڑ زمین، اسلام آباد کا بنگلہ، فیکٹریوں کے حصص اور کروڑوں کے انکشاف پر سوالات اٹھ گئے ہیں
نیب ریفرنس میں 1991 سے 1999 کے دوران معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام، ملتان کینٹ اور اسلام آباد میں بنگلوں سے لے کر بیٹیوں اور دیگر رشتہ داروں کے نام جائیدادوں تک 13 نکات درج، 1990-91 میں ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کی منتقلی بھی سوالات کی زد میں
اصولوں، جمہوریت اور اخلاقیات کی سیاست کے دعوے کرنے والے جاوید ہاشمی کے مالی معاملات سے متعلق نیب ریفرنس میں درج تفصیلات کئی اہم سوالات اٹھاتی ہیں۔ ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا کہ 1991 سے 1999 کے دوران ان کے اپنے نام اور زیرِ کفالت افراد کے نام پر ایسے اثاثے حاصل کیے گئے جن کی مالیت حصول یا تعمیر کے وقت 2 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد جبکہ مارکیٹ ویلیو 3 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زیادہ تھی، اور یہ اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
نیب ریفرنس میں زرعی زمین، قیمتی رہائشی بنگلوں، فیکٹریوں میں حصص، اشتہاری کمپنی میں شراکت، رہائشی تعمیرات، تین پجارو گاڑیوں، 20 لاکھ روپے کے پرائز بانڈز، سنیما میں حصے اور اہلِ خانہ کے نام پلاٹوں سمیت مجموعی طور پر 13 نکات درج کیے گئے۔ ان تفصیلات کے مطابق بعض جائیدادیں جاوید ہاشمی کے اپنے نام پر تھیں جبکہ متعدد اثاثے ان کی اہلیہ، بیٹیوں، بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے نام پر درج تھے۔
175 ایکڑ زرعی زمین، رشتہ داروں کے نام بھی حصے
نیب ریفرنس کے مطابق کوٹ ادو میں 175 ایکڑ زرعی زمین 4 لاکھ روپے میں خریدی گئی۔ اس میں سے 43 ایکڑ، 6 کنال اور 5 مرلے جاوید ہاشمی کے اپنے نام بتائے گئے، جبکہ باقی زمین ان کے بھائیوں محمد ناصر شاہ، مختار شاہ اور بھتیجے یا داماد زاہد احمد شاہ کے نام درج تھی۔ ریفرنس میں اس زمین کی ملکیت اور خریداری کو معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام کے تناظر میں شامل کیا گیا۔
ملتان کینٹ میں 9 کنال کا بنگلہ اہلیہ کے نام
ریفرنس میں ملتان کینٹ کی قاسم روڈ پر پلاٹ نمبر 50 پر واقع 9 کنال کے بنگلے کا ذکر بھی موجود ہے۔ دستاویز کے مطابق یہ بنگلہ 25 نومبر 1991 کو جاوید ہاشمی کی اہلیہ خورشید بیگم کے نام 22 لاکھ روپے میں خریدا گیا۔
اسلام آباد کے ایف سکس ٹو میں 1200 مربع گز کا بنگلہ
نیب ریفرنس میں اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس ٹو، اسٹریٹ نمبر 19 میں پلاٹ نمبر 22/C اور 22/D پر واقع 1200 مربع گز کے بنگلے کو بھی اثاثوں میں شامل کیا گیا۔ دستاویز کے مطابق یہ جائیداد یکم ستمبر 1991 کو جاوید ہاشمی کے اپنے نام پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدی گئی۔ معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں یہ جائیداد اہم نکات میں شامل تھی۔
بیٹیوں کے نام فیکٹریوں میں حصص
ریفرنس میں ملتان کے علاقے مخدوم رشید میں قائم الماخدوم کاٹن فیکٹری کے 35 فیصد حصص کا ذکر کیا گیا، جو 1990 میں جاوید ہاشمی کی بیٹیوں مومنہ اور جویریہ کے نام درج تھے۔ ان حصص کی مالیت 2 لاکھ روپے بتائی گئی۔
اسی علاقے میں زاہد دال فیکٹری کے 20 فیصد حصص بھی ریفرنس میں شامل کیے گئے، جو 1990 میں ان کی بیٹی مومنہ کے نام پر درج تھے۔ ان حصص کی مالیت ایک لاکھ روپے بتائی گئی۔
اسلام آباد کی اشتہاری کمپنی میں شراکت
نیب ریفرنس کے مطابق جاوید ہاشمی کے نام پر ایڈج ایڈورٹائزنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، اسلام آباد میں بھی حصہ موجود تھا۔ یہ حصہ 18 جنوری 1990 کو ان کے نام درج ہوا اور اس کی مالیت 3 لاکھ روپے بتائی گئی۔
ملتان میں تین رہائشی یونٹوں پر مشتمل ڈیرہ
ریفرنس میں ملتان کے گاؤں گھڑیالہ میں تین رہائشی یونٹوں پر مشتمل ڈیرے کا ذکر بھی کیا گیا۔ دستاویز کے مطابق یہ تعمیر 1992 سے 1998 کے درمیان ہوئی اور اس کی تعمیراتی لاگت 34 لاکھ 9 ہزار 910 روپے لگائی گئی۔ اس میں جاوید ہاشمی کا ایک چوتھائی حصہ 8 لاکھ 52 ہزار 477 روپے بتایا گیا۔
تین پجارو گاڑیاں بھی اثاثوں میں شامل
نیب ریفرنس میں تین پجارو گاڑیوں کا بھی ذکر ہے۔ ان میں 1985 ماڈل گاڑی نمبر LHM-533 اہلیہ کے نام، جبکہ 1987 ماڈل گاڑی نمبر MNK-85 اور 1993 ماڈل مٹسوبشی پجارو جاوید ہاشمی کے اپنے نام درج تھیں۔ ریفرنس میں تینوں گاڑیوں کی مجموعی مالیت 35 لاکھ روپے سے زیادہ بتائی گئی۔
اہلیہ کے نام 20 لاکھ روپے کے پرائز بانڈز
ریفرنس میں جاوید ہاشمی کی اہلیہ کے نام پر 20 لاکھ روپے مالیت کے پرائز بانڈز کا اندراج بھی شامل کیا گیا۔ یہ اثاثہ بھی نیب کی جانب سے معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام کی فہرست کا حصہ تھا۔
ملتان کے محفل سنیما میں ایک تہائی حصہ
نیب ریفرنس کے مطابق ملتان کے حسین آغائی روڈ پر واقع محفل سنیما، پراپرٹی نمبر 2572/A، A-1 اور B میں جاوید ہاشمی کا ایک تہائی حصہ تھا۔ دستاویز میں سنیما کی خریداری کی تاریخ 11 دسمبر 1997 اور مجموعی قیمت 88 لاکھ 37 ہزار 500 روپے درج ہے، جبکہ اس میں ان کی بیٹیوں کے حصے کی مالیت 29 لاکھ روپے بتائی گئی۔
بیٹیوں کے نام مزید پلاٹ
ریفرنس میں ملتان کے گلشنِ واحد ٹو میں پلاٹ نمبر 146، رقبہ 10 مرلے، کا بھی ذکر کیا گیا، جو 10 جولائی 1996 کو جاوید ہاشمی کی بیٹی آمنہ جاوید کے نام خریدا گیا۔ اس پلاٹ کی مالیت ایک لاکھ 73 ہزار روپے درج تھی۔
اسی طرح ملتان کے گاؤں ڈورانہ لانگا میں 10 مرلے کا ایک پلاٹ 1999 میں ان کی بیٹی مومنہ جاوید کے نام خریدا گیا، جس کی مالیت ایک لاکھ 6 ہزار روپے بتائی گئی۔
1990-91 میں ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کی منتقلی کا معاملہ
نیب ریفرنس کے 13ویں نکتے میں الزام لگایا گیا کہ جاوید ہاشمی کو 1990-91 کے دوران ٹیلی گرافک ٹرانسفرز اور بینک ڈرافٹس کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ 13 لاکھ روپے کی بھاری رقم موصول ہوئی۔ دستاویز میں اس حوالے سے یو بی ایل کی آدم جی نگر برانچ، کراچی کا ذکر کیا گیا ہے۔ ریفرنس میں اس رقم کو بھی اثاثوں اور آمدن سے متعلق الزامات کے ضمن میں شامل کیا گیا۔
یہ مالی منتقلی ایک اہم سوال ہے کہ اتنی بڑی رقم کن ذرائع سے آئی، کس مقصد کے لیے منتقل ہوئی اور اس کا تعلق کن مالی معاملات سے تھا۔ تاہم دستیاب عدالتی حکم میں اس رقم کی غیر قانونی منتقلی یا خرد برد کو حتمی طور پر ثابت شدہ قرار نہیں دیا گیا؛ یہ نیب ریفرنس میں درج الزام تھا۔
اصولوں کی سیاست کے دعوے، مالی شفافیت کے سوالات
نیب ریفرنس میں درج 13 نکات محض ایک جائیداد یا ایک مالی لین دین تک محدود نہیں تھے، بلکہ ان میں زرعی زمین، اسلام آباد اور ملتان کے بنگلے، فیکٹریوں اور اشتہاری کمپنی میں حصص، رہائشی تعمیرات، گاڑیاں، پرائز بانڈز، سنیما میں شراکت اور اہلِ خانہ کے نام جائیدادیں شامل تھیں۔ ان اثاثوں کے بارے میں بنیادی الزام یہ تھا کہ ان کی مالیت معلوم ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی اور ان کی وضاحت درکار تھی۔
جاوید ہاشمی کی سیاست میں جمہوریت، اصولوں اور اخلاقی برتری کے دعووں کے تناظر میں یہ ریکارڈ عوامی احتساب اور مالی شفافیت سے متعلق سوالات کو نمایاں کرتا ہے۔ جو سیاست دان دوسروں سے اصولوں اور جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہیں، ان کے اپنے مالی معاملات پر اٹھنے والے سوالات بھی عوامی بحث کا حصہ بن سکتے ہیں۔