جمہوریت کے جعلی ٹھیکیدار جاوید ہاشمی کے ذاتی اکاؤنٹ میں 2 کروڑ 77 لاکھ روپے منتقل ہونے کا انکشاف، پیسے کہاں سے آے کس نے بھیجے؟عوام نے جواب مانگ لیا

جمہوریت کے جعلی  ٹھیکیدار جاوید ہاشمی کے ذاتی اکاؤنٹ میں 2 کروڑ 77 لاکھ روپے منتقل ہونے کا انکشاف، پیسے کہاں سے آے کس نے بھیجے؟عوام نے جواب مانگ لیا

جاوید ہاشمی آج سیاسی اصولوں، جمہوریت اور اخلاقی اقدار کی بات کرتے ہیں، لیکن ان کے سیاسی ماضی سے جڑا اصغر خان کیس ایک ایسا معاملہ ہے جس پر سوالات اٹھ رہےہیں۔ 1990 کے عام انتخابات میں مبینہ طور پر سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کرکے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے دوران ان کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہونے والی رقم کا ذکر بھی سامنے آیا تھا۔

9 مئی 2018 کو صحافی زاہد گشکوری کی جانب سے روزنامہ دی نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی پیش رفت رپورٹ میں بتایا گیا کہ جاوید ہاشمی کے ذاتی اکاؤنٹ میں 1990 اور 1991 کے دوران ٹیلی گرافک ٹرانسفرز کے ذریعے 2 کروڑ 77 لاکھ روپے منتقل ہوئے۔ رپورٹ میں ایف آئی اے کے مؤقف کے حوالے سے کہا گیا کہ یہ رقم یوسف میمن کے ذریعے منتقل کی گئی تھی، جن پر الزام تھا کہ انہیں ان سیاست دانوں میں رقم تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی جو مبینہ طور پر براہِ راست آئی ایس آئی سے رقم وصول نہیں کرنا چاہتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، جاوید ہاشمی نے اپنے بیان میں آئی ایس آئی یا کسی غیر قانونی ذریعے سے رقم لینے کی تردید کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقم یوسف میمن کے ساتھ کاروباری لین دین کا نتیجہ تھی۔ ایف آئی اے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جاوید ہاشمی اپنے کاروباری تعلقات کی وضاحت پیش کر سکتے تھے۔ اس لیے معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ رقم کی منتقلی کے بارے میں ان کا مؤقف کیا تھا اور اس کی تائید میں کون سا ریکارڈ پیش کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھیں:تمام تعلیمی بورڈز نے 11ویں کلاس کا رزلٹ جاری کردیا، طلبہ گھر بیٹھے رزلٹ کیسے معلوم کریں؟

یہ معاملہ محض کسی ایک سیاست دان کے اکاؤنٹ میں رقم آنے کا نہیں تھا۔ اصغر خان کیس میں الزام تھا کہ 1990 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی روکنے کے لیے مختلف سیاست دانوں اور سیاسی گروہوں میں رقوم تقسیم کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے اکتوبر 2012 میں اپنے فیصلے میں اس معاملے پر قانونی کارروائی اور تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ بعد ازاں ایف آئی اے نے مختلف سیاست دانوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور بینک ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ 

تاہم، یہ بھی اہم حقیقت ہے کہ 2018 اور 2019 کی عدالتی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس کے مطابق، ایف آئی اے نے بالآخر کہا کہ دستیاب شواہد فوجداری کارروائی کے لیے کافی نہیں تھے۔ ادارے نے بینکوں سے مکمل ریکارڈ نہ ملنے اور اہم گواہوں کے بیانات میں تضادات سمیت متعدد مشکلات کا ذکر کیا۔ چنانچہ جاوید ہاشمی کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونے کی رپورٹ کو بذاتِ خود بدعنوانی یا جرم کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

لیکن سیاسی جواب دہی کا سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ جاوید ہاشمی اگر جمہوریت، شفافیت اور اخلاقی سیاست کے علم بردار ہیں تو انہیں اپنے سیاسی ماضی سے متعلق اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح طور پر بیان کرنا چاہیے۔ اگر 2 کروڑ 77 لاکھ روپے کاروباری لین دین تھے تو اس کی تفصیلات اور دستیاب دستاویزی ثبوت سامنے لانے میں کیا حرج ہے؟ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس رقم کی نوعیت کیا تھی، یوسف میمن کے ساتھ کاروباری تعلقات کی حقیقت کیا تھی اور اس معاملے میں ان کا مؤقف کیا رہا۔

جو سیاست دان دوسروں کو جمہوریت اور اخلاقیات کا درس دیتے ہیں، ان سے اپنے ماضی کے سوالات کا جواب بھی مانگا جانا چاہیے۔ جاوید ہاشمی بتائیں کہ ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل ہونے والے کروڑوں روپے کا معاملہ کیا تھا، اور اس کی وضاحت عوام کے سامنے مکمل طور پر کیوں نہ لائی جائے؟

Qaisar Mirza
editor

Related Articles