افغان طالبان نے اپنی سرزمین کرائے پر دیدی، دہشتگردوں کے لیے بھارتی فنڈنگ کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

افغان طالبان نے اپنی سرزمین کرائے پر دیدی، دہشتگردوں کے لیے بھارتی فنڈنگ کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

تحریکِ طالبان افغانستان کی حکومت افغانستان میں موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے لیے بھارت سے بھاری رقم وصول کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے، جس کے بعد بھارتی مالی معاونت کے عوض افغان سرزمین بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کو فراہم کرنے کا سنگین جرم بھی سامنے آ گیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو تیزی سے شیئر ہو رہی ہے جس سے متعلق معلومات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریکِ طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی موجودہ انتظامیہ ایک ایسے گروہ کی شکل اختیار کر چکی ہے جو مالی مفادات کے عوض ملک کی خودمختاری اور سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔

طالبان کے بارے میں مزید خوفناک انکشاف یہ ہوا ہے کہ افغان طالبان حکام بھارت کے ذریعے اپنی اور دیگر ممالک کی کرنسی وصول کر کے اسے پاکستانی روپوں میں تبدیل کروا کر پاکستان میں متحرک فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے بھیجے جا رہے ہیں جنہیں یہاں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عام عوام کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’ای سی او‘ وزرائے کونسل کی صدارت پاکستان کے سپرد، علاقائی ترقی کی راہ میں افغان دہشتگردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

وائرل ویڈیو میں ایک کمرے میں بھارتی کرنسی کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں، جس کی گنتی کی جا رہی ہے، اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ٹی ٹی اے کی جانب سے بھارت سے مالی فنڈنگ حاصل کی جا رہی ہے جس کے بدلے میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسی بین الاقوامی اور علاقائی کالعدم تنظیموں کو افغان سرزمین پر نہ صرف پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں بلکہ ان کی مکمل سہولت کاری بھی کی جا رہی ہے۔

ان تنظیموں کا بنیادی مقصد افغان خاک کو استعمال کرتے ہوئے پڑوسی ممالک میں دہشتگردانہ کارروائیاں اور حملے سرانجام دینا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو

ایکس پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے عالمی اور علاقائی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی موجودہ قیادت رقم کے عوض اپنی سرزمین اور قومی سلامتی کا سودا کر رہی ہے، جس کے باعث خطے کا امن اور پائیدار استحکام شدید خطرات سے دوچار ہو چکا ہے۔

پڑوسی ممالک کی جانب سے متعدد بار یہ خدشات ظاہر کیے جا چکے ہیں کہ افغانستان کی موجودہ انتظامیہ اپنے ان بین الاقوامی معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری کرنے میں ناکام رہی ہے جن میں یہ عزم ظاہر کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

 اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے خطے میں سیکیورٹی صورتِ حال پیچیدہ شکل اختیار کر چکی ہے۔

دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان نے یہ ضمانت دی تھی کہ وہ القاعدہ، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو افغانستان میں پناہ گاہیں فراہم نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کی اجازت دیں گے۔

مزید پڑھیں:دہشتگردی کیخلاف جنگ، وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں کیساتھ بات کرنے کو تیار ہیں ، رانا ثنا اللہ

تاہم حالیہ مہینوں کے دوران سرحد پار سے بڑھتے ہوئے حملوں اور کالعدم تنظیموں کی افغان شہروں میں موجودگی سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس نے ان تمام دعوؤں پر سوالیہ نشان ثبت کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات اور سیکیورٹی امور کے تناظر میں دیکھا جائے تو اگر کوئی حکومت اپنی حدود کو غیر ملکی فنڈنگ کے عوض شدت پسند عناصر کے سپرد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف اس کی اندرونی و خارجی مشروعیت ختم ہو جاتی ہے بلکہ وہ ایک خودمختار ریاست کے بجائے مختلف مفادات کے تحت کام کرنے والے عناصر کے گروپ کے طور پر دیکھی جانے لگتی ہے۔

افغان سرزمین کا دہشتگرد تنظیموں کے لیے استعمال ہونا نہ صرف ہمسایہ ممالک کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے بلکہ خود افغانستان کے طویل المیعاد استحکام اور عالمی تنہائی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں افغان انتظامیہ کو دوحہ معاہدے کی پاسداری پر مجبور کریں اور دہشت گرد تنظیموں کی کسی بھی قسم کی مالی و لاجسٹک سرپرستی کا راستہ فوری طور پر بند کیا جائے۔

Related Articles