13 سالہ پی ٹی آئی دور میں اسکولوں کو برباد کر دیا گیا، بنوں کے 672 سکولوں کی حالت انتہائی خستہ، 711 کمرے مرمت کے منتظر،209 اسکولوں میں واش رومز نہیں۔ سروے رپورٹ آ گئی
Home - آزاد انتخاب - 13 سالہ پی ٹی آئی دور میں اسکولوں کو برباد کر دیا گیا، بنوں کے 672 سکولوں کی حالت انتہائی خستہ، 711 کمرے مرمت کے منتظر،209 اسکولوں میں واش رومز نہیں۔ سروے رپورٹ آ گئی
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل دورِ حکومت کے باوجود ضلع بنوں کے سرکاری اسکول بنیادی سہولیات کی کمی اور خستہ حال عمارتوں کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ضلع کے 672 سرکاری اسکولوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی دور کرنے کے لیے 4 ارب 50 کروڑ 93 لاکھ 98 ہزار 663 روپے درکار ہیں، جبکہ سینکڑوں کمروں کی مرمت، واش رومز کی تعمیر اور اسکولوں کی چار دیواری کی بحالی تاحال ایک بڑا چیلنج ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ضلع بنوں کے سرکاری اسکولوں میں 711 کمرے خستہ حال ہیں اور ان کی مرمت ضروری قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح 209 اسکولوں میں واش رومز کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے، جبکہ 33 اسکولوں کی چار دیواری خراب یا غائب ہے، جس کی تعمیر یا بحالی ناگزیر ہے۔
رپورٹ میں سامنے آنے والی صورت حال صوبے میں تعلیمی سہولیات کی بہتری کے دعوؤں پر سوالات اٹھاتی ہے۔ بالخصوص پرائمری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی تشویش ناک ہے، جہاں بچوں کی بڑی تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے، مگر عمارتوں کی مرمت، واش رومز اور چار دیواری جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے اربوں روپے درکار ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ مسائل پرائمری اسکولوں میں موجود ہیں۔ ضلع کے 585 پرائمری اسکولوں میں 630 کمروں کی مرمت، 188 واش رومز اور 22 چار دیواریوں کی تعمیر یا بحالی ضروری ہے۔ ان کاموں پر 3 ارب 72 کروڑ 3 لاکھ 63 ہزار 270 روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو ضلع کے مجموعی مطلوبہ فنڈز کا تقریباً 82.5 فیصد ہے۔
اسی طرح 35 مڈل اسکولوں میں 12 کمروں کی مرمت، 7 واش رومز اور 5 چار دیواریوں کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے، جن پر 34 کروڑ 29 لاکھ 56 ہزار 516 روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ ضلع کے 39 ہائی اسکولوں میں 59 کمروں کی مرمت، 11 واش رومز اور 5 چار دیواریوں کی تعمیر یا بحالی درکار ہے، جس کے لیے 39 کروڑ 45 لاکھ 18 ہزار 290 روپے درکار ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق 13 ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں بھی 10 کمروں کی مرمت، 3 واش رومز اور ایک چار دیواری کی ضرورت موجود ہے، جن پر 5 کروڑ 15 لاکھ 60 ہزار 587 روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
تحصیل وار صورت حال بھی بنیادی سہولیات کی کمی کو نمایاں کرتی ہے۔ تحصیل بنوں کے 417 سرکاری اسکولوں میں 227 کمروں کی مرمت، 158 واش رومز اور 33 چار دیواریوں کی تعمیر یا بحالی درکار ہے۔ ضلع میں چار دیواریوں سے متعلق درج تمام 33 ضروریات اسی تحصیل میں سامنے آئی ہیں۔
سب ڈویژن وزیر کے 108 اسکولوں میں 250 کمرے خستہ حال ہیں، جبکہ 32 واش رومز کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔ تحصیل میریان کے 56 اسکولوں میں 99 کمروں کی مرمت اور 11 واش رومز، تحصیل ڈومیل کے 42 اسکولوں میں 49 کمروں کی مرمت اور 4 واش رومز درکار ہیں۔
تحصیل ککی کے 30 اسکولوں میں 60 کمرے مرمت کے منتظر ہیں، جبکہ تحصیل بکا خیل کے 16 اسکولوں میں 26 کمروں کی مرمت اور 4 واش رومز کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ضلع بنوں کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عمارتوں کی بہتری کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہیں۔ خستہ حال کلاس رومز، واش رومز کی کمی اور چار دیواریوں کے مسائل براہِ راست تعلیمی ماحول، طلبہ و طالبات کی سہولت اور تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی پی ٹی آئی کی حکومتوں کے دور میں سرکاری اسکولوں کی ان بنیادی ضروریات کو کس حد تک پورا کیا گیا اور بنوں کے تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیوں درکار ہیں؟ دستیاب اعداد و شمار ضلع کے تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے فوری توجہ اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت واضح کرتے ہیں۔