’ای سی او‘ وزرائے کونسل کی صدارت پاکستان کے سپرد، علاقائی ترقی کی راہ میں افغان دہشتگردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
Home - اہم خبریں - ’ای سی او‘ وزرائے کونسل کی صدارت پاکستان کے سپرد، علاقائی ترقی کی راہ میں افغان دہشتگردی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
پاکستان نے سال 27-2026 کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) وزرائے کونسل کی صدارت سنبھالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے میں معاشی ترقی کا خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب افغان سرزمین سے پھیلنے والی دہشتگردی کا مکمل تدارک ہو۔
نائب وزیراعظم پاکستان اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقتصادی تعاون تنظیم کی وزرا کونسل کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علاقائی روابط، سلامتی اور معاشی تعاون پر پاکستان کی واضح پالیسی بیان کی ہے۔
پاکستان نے آئندہ 2 برسوں (27-2026) کے لیے اس اہم علاقائی فورم کی صدارت بھی سنبھال لی ہے، جس پر اسحاق ڈار نے رکن ممالک کے اعتماد کا شکریہ ادا کیا۔
اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ای سی او‘ کے خطے میں تقریباً 50 کروڑ افراد آباد ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی تجارت میں اس تنظیم کا حصہ محض 2.2 فیصد ہے جو کہ خطے کی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے کو زیادہ مربوط، متحرک اور مسابقتی بنانا ہم سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ علاقائی تعاون کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے اب محض مکالمے تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا۔ پاکستان اپنے دورِ صدارت میں علاقائی اقتصادی انضمام اور باہمی تجارت کے فروغ کو اولین ترجیح دے گا۔
وسطی ایشیا کا رابطہ اور افغان راہداری
نائب وزیراعظم نے زور دیا کہ وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والے اہم راہداری منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانا ہوگی۔
پاکستان افغان-ازبکستان ٹرانزٹ روٹ اور ریلوے لائن جیسے عظیم الشان منصوبوں کا شدت سے خواہاں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ شرط عائد کی کہ یہ بین الاقوامی تجارتی خواب اسی صورت حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں جب افغانستان کی طالبان حکومت قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کا عملی طور پر ساتھ دے۔
افغان سرزمین کا دہشتگردی میں استعمال
خطے کے سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ افغانستان، پاکستان کی امن کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین تسلسل کے ساتھ دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے جو جنوبی ایشیا کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ ہے۔
پاکستان کا واضح اور واحد مطالبہ یہ ہے کہ طالبان رجیم اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کی آماجگاہ بننے سے روکے۔ اس ضمن میں افغان حکام سے متعدد ملاقاتیں اور مذاکرات بھی ہو چکے ہیں کیونکہ پاکستان ایک پرامن، ترقی کرتے اور مستحکم افغانستان کا خلوصِ دل سے خواہاں ہے۔
مشرق وسطیٰ اور ماحولیاتی چیلنجز
خطے اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
برادر ممالک کے ساتھ مل کر پرامن نتائج کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو انسانی بقا کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لیے تمام حکومتوں کے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کا قیام 1985 میں پاکستان، ایران اور ترکیہ کی کاؤشوں سے عمل میں آیا تھا، جسے بعد ازاں 1992 میں وسطی ایشیائی ریاستوں کی شمولیت سے وسعت دی گئی۔
اس تنظیم کا بنیادی مقصد خطے کے ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنا اور علاقائی روابط کو بڑھانا ہے۔ تاہم، دہائیوں پر محیط افغان تنازع اور خطے کی پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث یہ تنظیم اپنے مطلوبہ معاشی اہداف حاصل کرنے میں تاحال مشکلات کا شکار رہی ہے۔
اقتصادی و سیکیورٹی صورتحال کا اسٹریٹجک جائزہ
اس تمام تر پیشرفت کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ پاکستان اب جیو اکنامکس کو علاقائی سیکیورٹی کے ساتھ مشروط کر چکا ہے۔
عالمی فورمز پر پاکستان کا یہ دو ٹوک مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ ٹرانس افغان ریلوے اور وسطی ایشیا تک رسائی کے اربوں ڈالر کے منصوبے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک کابل اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا۔
سفارتی محاذ پر اس سخت مؤقف کا اپنایا جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اب محض مذاکرات کے بجائے کابل سے ٹھوس عملی اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔ خطے کی مجموعی خوشحالی اب براہِ راست سیکیورٹی اور دہشتگردی کے خاتمے سے جڑ چکی ہے۔