ٹیلی ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کا لے آؤٹ پلان منسوخ ، دفتر سیل کرنے اور غیر قانونی عمارتوں کیخلاف کارروائی کا حکم

ٹیلی ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کا لے آؤٹ پلان منسوخ ، دفتر سیل کرنے اور غیر قانونی عمارتوں کیخلاف کارروائی کا حکم

 کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شرائط کی مسلسل عدم تکمیل پر زون فائیو میں واقع ٹیلی ٹاؤن ہاؤسنگ سکیم کا لے آؤٹ پلان فوری طور پر منسوخ کر دیا ، اتھارٹی نے سکیم کا دفتر سیل کرنے اور بغیر منظور شدہ بلڈنگ پلان تعمیر کی گئی عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں، اگر موجود ہوں، کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف ہاؤسنگ سوسائٹیز کی جانب سے 21 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ خط اور پبلک نوٹس کے مطابق، میسرز ٹیلی ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ کی 499.50 کنال اراضی پر مشتمل سکیم کے لے آؤٹ پلان کی 24 مارچ 2023 کو مشروط منظوری دی گئی تھی تاہم، تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ منظوری سے منسلک شرائط پوری کرنے میں ناکام رہی۔

خط کے مطابق سکیم انتظامیہ کو مارچ اور دسمبر 2023، اگست اور نومبر 2024 میں شرائط کی تعمیل کے لیے نوٹس جاری کیے گئے۔ بعدازاں 27 مئی اور 2 دسمبر 2025 کو شوکاز نوٹسز کے ذریعے آخری موقع بھی دیا گیا، لیکن انتظامیہ نے ہدایات پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیں : لوٹ مار کا حساب دینے کے بجائے اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی ! جمہوریت کے نام نہاد علمبردار جاوید ہاشمی کا اصل چہرہ بے نقاب

سی ڈی اے کے مطابق سکیم کی تشہیر اور آغاز کو بیس سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ترقیاتی کام نہ ہونے پر شہریوں کی متعدد شکایات موصول ہوئیں ،  ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فیڈرل آڈٹ نے بھی لے آؤٹ پلان کی منظوری کی شرائط پوری نہ کیے جانے پر آڈٹ پیرا قائم کیا۔

اتھارٹی نے متعلقہ قواعد کے تحت لے آؤٹ پلان کی منظوری فوری طور پر واپس لیتے ہوئے ڈائریکٹر انفورسمنٹ ایسٹ کو سکیم کا دفتر سیل کرنے کے لیے مزید کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول ساؤتھ سے بھی کہا گیا ہے کہ سکیم میں بغیر منظور شدہ بلڈنگ پلان تعمیر کی گئی غیر قانونی عمارتیں یا ڈھانچے موجود ہوں تو ان کی مسماری یا ہٹانے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی شروع کی جائے۔

ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی اسلام آباد سے متعلقہ مجسٹریٹ اور ایس ایچ او کو سی ڈی اے کے قواعد اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے متعلقہ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے ،  خط کی نقول نیب کے علاقائی دفتر اور ایف آئی اے اسلام آباد زون سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

آئیسکو اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو کہا گیا ہے کہ سکیم میں سروس کنکشن صرف سی ڈی اے کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور منظور شدہ بلڈنگ پلان کے مطابق فراہم کیے جائیں۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے سی ڈی اے کی منظوری کے بغیر ہاؤسنگ اور دیگر متعلقہ منصوبوں کے اشتہارات کی اشاعت کی اجازت نہ دینے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ اسی اندراج میں پیمرا اور پی ٹی اے کے ذریعے غیر منظور شدہ منصوبوں کی ویب سائٹس بلاک کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

سی ڈی اے نے الاٹیوں، خریداروں اور دیگر متعلقہ افراد کو خبردار کیا ہے کہ وہ جائیداد کی خرید و فروخت سے پہلے اتھارٹی سے منظوری کی تصدیق کریں اور ایسی سکیموں میں پلاٹ، مکان، فلیٹ یا دکان نہ خریدیں جن کے لیے مطلوبہ این او سی یا منظوری حاصل نہیں کی گئی۔

 پبلک نوٹس کے مطابق، اس ہدایت کو نظرانداز کرنے کے نتائج کی ذمہ داری سی ڈی اے پر نہیں ہوگی۔

اتھارٹی نے سکیم کے مالکان، فروخت کنندگان، بلڈرز، ڈویلپرز، اشتہار دینے والوں اور اسٹیٹ ایجنٹس کو بھی غیر قانونی تعمیرات اور ترقیاتی سرگرمیوں سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی سے خبردار کیا ہے۔

editor

Related Articles