خیبرپختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں کو نجی اشتراک کے ساتھ چلانے کے منصوبے میں سابق حکومت کا ایک نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے صوبائی حکام کی جانب سے شدید دبائو کے باوجود ہیلتھ فائونڈیشن نے ادائیگیوں سے انکار کرتے ہوئے انکوائری بٹھادی جس پر انکوائری کمیٹی نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں ٹائپ سی ہسپتال سے متعلق سرحد این جی او کے مالی تنازعے پر اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے جس میں فائونڈیشن پر تقریبا 39کروڑ 50لاکھ روپے کے بقایاجات کے دعوے کی تائید میں کوئی نیا مستند دستاویزی ثبوت سامنے نہ آنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ دستیاب سرکاری ریکارڈ مکمل اور تسلسل کے ساتھ موجود ہے جبکہ فائونڈیشن کی جانب سے محکمہ صحت کو پہلے بھیجے گئے تفصیلی بریف میں حقائق درست طور پر درج کئے گئے ہیں واضح رہے کہ سابق وزیر صحت وخزانہ تیمور جھگڑا کے دور میں سرکاری ہسپتال نجی اشتراک پر چلانے کا معاہدہ کیا گیا تھا اس کے بعد میر علی میں ہسپتال کے ساتھ معاہدہ ختم کیا گیا لیکن اس کے باوجود این جی او کی جانب سے تقریبا40کروڑ بقایاجات کا دعویٰ کیا گیا تاہم جب ریکارڈ چیک کیا گیا تو یہ دعویٰ غلط تھا ۔
اس ضمن میں صوبائی حکام نے این جی او کو پیسے دینے کیلئے فائونڈیشن پر دبائو ڈالا لیکن فائونڈیشن کی جانب سے انکار کیا گیا اس ضمن میں کی گئی انکوائری رپورٹ کے مطابق سابق پارٹنر ایم ایس سرحد کے نمائندے ندیم نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر فائونڈیشن کے ذمے تقریبا 39کروڑ 50لاکھ روپے کے بقایاجات کا دعوی کیا نمائندے نے 31دسمبر 2023کے بعد سے دسمبر 2024تک کی مدت کے مالی حسابات بھی پیش کئے اور بعض الزامات عائد کئے تاہم کمیٹی کے مشاہدے کے مطابق یہ دعوے معاہدے کی منسوخی کے بعد کی مدت سے متعلق ہیں اور ان کی بنیاد پر ادائیگی کا کوئی مستند معاہداتی فیصلہ پیش نہیں کیا گیا۔
انکوائری رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 3جنوری 2024کے ثالثی ایوارڈ کے تحت معاہدہ عوامی مفاد میں ختم کیا گیا تھا کمیٹی کے مطابق معاہدہ ختم ہونے کے بعد ایم ایس سرحد نے خدمات فراہم نہیں کیں جبکہ اکتوبر تا دسمبر 2023کی سہ ماہی رپورٹ کو ادائیگی کیلئے آخری منظور شدہ رپورٹ قرار دیا گیا تھاکمیٹی نے اپنے جائزے میں کہا کہ معاہدے کی منسوخی کے بعد کی مدت کیلئے مالی دعوے پیش کرنے سے متعلق دستاویزی اور معاہداتی بنیاد واضح نہیں کی جا سکی ۔
رپورٹ کے مطابق سابق پارٹنر کی جانب سے کوئی ایسا نیا ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا جو فائونڈیشن کے پہلے سے موجود مئوقف یا سرکاری ریکارڈ کی حیثیت کو تبدیل کر سکے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا ہیلتھ فائونڈیشن کے پاس موجود سرکاری ریکارڈ مکمل، مسلسل اور دستیاب ہے کمیٹی نے جعلی خط اور اس سے متعلق انکوائری کے الزامات کا بھی جائزہ لیا تاہم دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ الزامات ثابت نہیں ہو سکے ۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر نتیجہ اخذ کیا کہ فائونڈیشن کی جانب سے محکمہ صحت کو پہلے ارسال کئے گئے جامع بریف میں معاملے کے حقائق درست اور مکمل طور پر درج ہیں رپورٹ کے مطابق انکوائری کے دوران ایسا کوئی نیا ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر فائونڈیشن کے سابقہ مئوقف میں تبدیلی کی ضرورت ہو،رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایم ایس سرحد اور خیبر پختونخوا ہیلتھ فائونڈیشن کے درمیان تنازعہ پشاور ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے اس لئے مالی دعووں اور معاہدے کی منسوخی سے متعلق حتمی قانونی صورت حال کا تعین عدالتی کارروائی سے بھی وابستہ ہے ۔
انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ نئی رپورٹ کو محکمہ صحت کو پہلے بھیجے گئے جامع بریف کے ساتھ منسلک کیا جائے اور عدالت میں فائونڈیشن کا دفاع اصل دستاویزی ریکارڈ، متعلقہ معاہدے اور ثالثی ایوارڈ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے اس کے علاوہ تمام اصل دستاویزات اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ عدالتی کارروائی کے دوران ضرورت پڑنے پر انہیں پیش کیا جا سکے تین رکنی انکوائری کمیٹی میں ڈائریکٹر فنانس صاحبزادہ زادہ عمیر احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹ سلیمان خان اور لیگل ایڈوائزر شامل تھے۔