ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے مشیر محمود جان بابر نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے گزشتہ ملاقات میں وفاقی کابینہ کے متعدد اہم وزرا، وزیر خزانہ، وزیر داخلہ، وزیر قانون اور وزیر اطلاعات سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے تھے، جبکہ انجینئر امیر مقام بھی موجود تھے وہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ آئے تھے اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھے، جبکہ پشاور کے کور کمانڈر بھی اس عمل کا حصہ تھے۔
محمود جان بابر کے مطابق اس سے قبل اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں کیے گئے فیصلوں کے بعد وزیراعظم کی قبائلی علاقوں سے متعلق کونسل کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ اس اجلاس میں معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور کونسل کو اعتماد میں لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے لیے 160ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا ان کے بقول وزیراعظم نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں کارروائیوں اور متعلقہ امور کے لیے اس رقم کا اعلان کیا جا رہا ہے، جبکہ اس منصوبے میں دیگر صوبوں سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔
محمود جان بابر نے کہا کہ اب اس رقم کے مؤثر استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی تیاری کی ذمہ داری متعلقہ حکام اور مقامی نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں اپنے علاقوں کے لوگوں اور نوجوانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی پروگرام تیار کرنے ہوں گے۔ ان منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران یہ نگرانی بھی کی جائے گی کہ متعلقہ علاقوں میں کام درست انداز میں ہو رہا ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کونسل کو اختیارات دینے اور اس کی تجاویز کو اہمیت دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کے تحت کونسل کے ارکان کو اپنے علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں اور منصوبوں کی نگرانی کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
مشیر محمود جان بابر نے بتایا کہ اجلاس میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر بھی بات ہوئی۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ امن و امان کی بہتری کے ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں کو بھی آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں معاشی مشکلات اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں بعض شعبوں میں پائے جانے والے فرق کا بھی ذکر کیا تھا۔ اس ضمن میں صوبے کی ترقی اور معاشی حالات کو دوسرے صوبوں کے برابر لانے کے لیے اقدامات کرنے کی بات کی گئی۔
محمود جان بابر کے مطابق وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ خیبر پختونخوا کے لیے مختص وسائل صوبے کی ترقی اور متعلقہ منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ اب یہ متعلقہ حکام اور کونسل کے نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان وسائل کے استعمال کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ رقم عوامی فلاح اور ترقیاتی کاموں پر صرف ہو۔
یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا میں نئی پلاننگ، ایڈوائزری کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد کا مرحلہ شروع ہوگیا
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے واضح کیا تھا کہ وفاقی حکومت صرف مالی وسائل فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی تعاون کیا جائے گا، تاکہ صوبے میں امن و استحکام اور ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
محمود جان بابر کے مطابق اجلاس میں یہ تجویز بھی زیرِ بحث آئی کہ کونسل کے ارکان اپنے علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیں۔ جن علاقوں میں امن قائم ہے، وہاں ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کیا جائے گا، جبکہ جن علاقوں میں بدامنی برقرار ہے، وہاں مقامی لوگوں اور متعلقہ نمائندوں کو صورت حال بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے دوران سرکاری اہلکاروں اور ٹھیکیداروں کو درپیش مشکلات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ مقامی نمائندوں کو اپنے علاقوں میں جاری سرگرمیوں پر نظر رکھنی ہوگی اور اس بات کی نشاندہی کرنا ہوگی کہ کہاں امن و امان کی صورت حال ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
مشیر کے مطابق متعلقہ نمائندوں کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنے علاقوں میں جا کر مقامی لوگوں کو صورت حال سے آگاہ کریں اور انہیں سمجھائیں کہ ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے امن کے قیام میں تعاون کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ مقامی نمائندوں اور شہریوں کا کردار اپنے علاقوں میں امن برقرار رکھنے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی تک محدود ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرنا سکیورٹی فورسز، فوج، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔
محمود جان بابر کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مقامی سطح پر ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں متاثر ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے مقامی لوگوں اور نمائندوں کو تعاون کرنا چاہیے تاکہ امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی عمل میں پیش رفت ہو سکے۔
