3 ماہ کی قانونی جدوجہد کے بعد فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کی ریلیز کی راہ ہموار ہوگئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے فلم کو بغیر کسی کٹوتی کے ریلیز کرنے کی اجازت دے دی، فلم 30 اکتوبر کو پنجاب اور سندھ کے سینما گھروں میں پیش کی جائے گی۔
سندھ میں تعلیمی مسائل، بند اسکولوں اور بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے بنائی گئی فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کو ریلیز سے قبل قانونی رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ ہدایت کارہ سیماب گل کے مطابق، سندھ سنسر بورڈ نے فلم کے بعض مناظر کاٹنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔
عدالت سے اجازت ملنے کے بعد اب فلم کو بغیر کسی کٹوتی کے نمائش کے لیے پیش کرنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔
ایک 10 سالہ بچی اور بند اسکول کا راز
فلم کی کہانی رابعہ نامی 10 سالہ بچی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے گاؤں کے واحد اسکول کی اچانک بندش کی وجہ جاننے کی کوشش کرتی ہے۔
گاؤں میں اسکول کے آسیب زدہ ہونے کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں، لیکن رابعہ ان افواہوں کے پیچھے چھپی حقیقت تلاش کرنے نکل پڑتی ہے۔ اس سفر کے ذریعے فلم سندھ میں غیر فعال اسکولوں اور بچیوں کی تعلیم کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرتی ہے۔
ہدایت کارہ سیماب گل نے فلم کی ریلیز کی اجازت ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ چاہتی تھیں کہ سندھ کے لوگ اس کہانی کو دیکھیں، کیونکہ اس کا تعلق انہی کے معاشرے اور مسائل سے ہے۔
فلم ساز نے معاوضہ کیوں نہیں لیا؟
فلم کی سنیماٹوگرافر زمرین وحدت افغانستان میں پیدا ہونے والی جرمن فلم ساز ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق کو لاحق خطرات نے اس موضوع کو ان کے لیے ذاتی طور پر اہم بنا دیا تھا۔
اسی وابستگی کے باعث زمرین وحدت نے ’گھوسٹ اسکول‘ میں سنیماٹوگرافر کے طور پر کام کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں لیا۔
عالمی سطح پر نمائش، پاکستان میں ریلیز کے لیے قانونی جدوجہد
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ریلیز کے حوالے سے قانونی مشکلات کا سامنا کرنے والی فلم اس سال برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی کے کم از کم 11 سینما گھروں میں بھی فلم دکھائی جا چکی ہے۔
ہدایت کارہ کے مطابق، ’گھوسٹ اسکول‘ 30 اکتوبر کو پنجاب اور سندھ میں ریلیز ہوگی۔ اب شائقین اس فلم کے ذریعے ایک ایسی کہانی دیکھ سکیں گے جو صرف ایک بچی کی جستجو نہیں، بلکہ تعلیم تک رسائی اور بند اسکولوں جیسے اہم سماجی مسائل کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔