حکومتِ پاکستان نے نیشنل سیونگز کی مختلف بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں 36 سے 110 بیسس پوائنٹس تک اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں کو بعض اسکیموں میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ منافع ملے گا۔
اس فیصلے کا مقصد ملک میں بچت کے رجحان کو فروغ دینا اور لوگوں کو اپنی رقم محفوظ بچت اسکیموں میں رکھنے کی ترغیب دینا ہے۔
مختلف بچت اسکیموں پر نئی شرحِ منافع
اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح میں 110 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد یہ شرح 12 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر شرحِ منافع 96 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد 12.12 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
بہبود سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح 36 بیسس پوائنٹس بڑھ کر 12.96 فیصد ہوگئی ہے۔ اسی طرح سروا اسلامی اکاؤنٹ پر شرحِ منافع میں 59 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد یہ 11.84 فیصد ہوگئی ہے۔
قلیل مدتی سرٹیفکیٹس پر بھی منافع میں اضافہ
تین ماہ کے قلیل مدتی سرٹیفکیٹ پر شرحِ منافع 26 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد 11.12 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ چھ ماہ کے سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح 64 بیسس پوائنٹس بڑھ کر 11.50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ایک سال کے سرٹیفکیٹ پر شرحِ منافع میں 44 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد یہ 11.72 فیصد ہوگئی ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے اس فیصلے کا کیا مطلب ہے؟
منافع کی شرح میں اضافے سے ان افراد کو فائدہ ہوسکتا ہے جو نیشنل سیونگز کی متعلقہ اسکیموں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ تاہم اصل منافع کا انحصار اسکیم کی شرائط، سرمایہ کاری کی رقم، ٹیکس اور دیگر قابلِ اطلاق کٹوتیوں پر ہوگا۔ سرمایہ کاری سے پہلے متعلقہ اسکیم کی تازہ شرحِ منافع اور شرائط کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔