پنجاب حکومت نے آٹے کی فروخت کے نظام میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے 20 کلو کے تھیلے کی فروخت مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صوبے کی مارکیٹوں میں اب صرف 10 کلو آٹے کے تھیلے فروخت کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت ویڈیو لنک اجلاس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور رسد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آٹے اور گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بین الصوبائی سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
حکومت نے اس فیصلے کے ذریعے آٹے کی دستیابی اور گندم کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کی کوشش کی ہے۔
صرف 10 کلو تھیلا
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب بھر میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فروخت مستقل طور پر بند کردی جائے گی۔ اس کے بعد مارکیٹوں میں صرف 10 کلو آٹے کے تھیلے دستیاب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :عوام کے لیے بڑی خوشخبری، آٹے کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
یہ تبدیلی آٹے کی خریداری کے موجودہ طریقہ کار میں نمایاں ردوبدل ہے۔ اب صارفین کو زیادہ مقدار میں آٹا خریدنے کے لیے ایک سے زیادہ تھیلے لینا پڑ سکتے ہیں۔
صارفین کے لیے اس فیصلے کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آٹے کی فی کلو قیمت برقرار رہتی ہے یا اس میں تبدیلی آتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے تھیلوں کی دستیابی اور مارکیٹ میں ان کی مسلسل فراہمی بھی اہم ہوگی۔
اسمگلنگ پر نگرانی
وزیراعلیٰ مریم نواز نے آٹے اور گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بین الصوبائی سرحدوں کی کڑی نگرانی کا حکم دیا ہے۔ متعلقہ حکام کو گندم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اپنے اضلاع میں گندم کی بوائی کے مقررہ اہداف پورے کرنے کا بھی کہا گیا۔ وزیراعلیٰ نے سرکاری اراضی پر گندم کی کاشت یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
ان اقدامات کا مقصد صوبے میں گندم کی پیداوار اور دستیابی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم ان ہدایات کے نتائج کا اندازہ آئندہ بوائی کے اعدادوشمار اور گندم کی مارکیٹ میں دستیابی سے لگایا جاسکے گا۔
گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے سرکاری زمین کا استعمال بھی انتظامی توجہ کا اہم معاملہ بن گیا ہے۔ اب ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مقررہ اہداف پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
15 اشیا کا جائزہ
اجلاس میں سبزیوں، دالوں اور دیگر اجناس سمیت 15 اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف اشیا کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ پر بھی تفصیلی رپورٹ زیرغور آئی۔
تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں ان 15 اشیا کے نام موجودہ قیمتیں اور گزشتہ نرخوں کے مقابلے میں ہونے والی تبدیلیوں کی مکمل معلومات شامل نہیں ہیں۔ اس لیے مہنگائی کی مجموعی صورتحال کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :سستا آٹا فراہم کرنے کیلئے حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا


