وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ سال کے لیے گندم کی بنیادی قیمت 3 ہزار 500 روپے سے بڑھا کر 4 ہزار 500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کی مجوزہ قیمت کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے فی 40 کلوگرام زیادہ ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد پیداواری لاگت میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر کسانوں کو ریلیف فراہم کرنا اور گندم کی کاشت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ گندم کی بنیادی قیمت میں اضافے کا فیصلہ کاشتکاروں کو درپیش معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، زرعی مداخل کی لاگت اور مجموعی مہنگائی کے باعث کسانوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر نئی قیمت تجویز کی گئی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بنیادی قیمت میں اضافے سے کاشتکاروں کو اپنی پیداواری لاگت پوری کرنے اور مناسب منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس فیصلے کا مقصد کسانوں کو آئندہ سیزن میں گندم کی زیادہ کاشت کی ترغیب دینا بھی ہے تاکہ ملک میں گندم کی پیداوار بڑھانے کے امکانات بہتر بنائے جا سکیں۔
شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ نئی مجوزہ قیمت کاشتکاروں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگی اور وہ آنے والے سیزن میں گندم کی کاشت میں اضافہ کریں گے۔ حکومت کی جانب سے قیمت میں اضافے کو زرعی شعبے کی معاونت اور کسانوں کو درپیش مالی دباؤ کم کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے گندم کی بنیادی قیمت کے تعین کے لیے ہونے والے مشاورتی عمل میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی کو سراہا۔ انہوں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے تعاون اور قیمتی تجاویز کی بھی تعریف کی۔
شہباز شریف نے سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کا بھی شکریہ ادا کیا اور گندم کی قیمت کے حوالے سے ان کی حمایت کو سراہا۔
حکومت کی جانب سے گندم کی بنیادی قیمت میں ایک ہزار روپے فی 40 کلوگرام اضافے کی مجوزہ تجویز کو کسانوں کی آمدن بہتر بنانے اور آئندہ فصل کے لیے کاشت کی حوصلہ افزائی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کاشتکاروں کو مقررہ قیمت کے مطابق اپنی پیداوار کی فروخت کا مؤثر موقع کس حد تک میسر آتا ہے۔