اسپیشل عدالت سینٹرل نے معروف معالج ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کے سامنے شاملِ تفتیش ہونے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی ضمانتوں میں 20 اپریل تک توسیع کر دی ہے اور ایف آئی اے کو اس تاریخ تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق اسپیشل عدالت سینٹرل میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں اسپیشل جج سینٹرل ہمایوں دلاور نے کیس کی سماعت کی۔ اس دوران ڈاکٹر فضیلہ عباسی عدالت میں پیش ہوئیں، جہاں جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ تین ماہ سے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت جاری ہے اور ہائیکورٹ کی ہدایت پر انہیں شاملِ تفتیش ہونا چاہیے۔ عدالت نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ آج ہی ایف آئی اے کے سامنے شاملِ تفتیش ہوں۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے اپنی جانب سے حمزہ علی عباسی کے ساتھ جوائنٹ اکاؤنٹ ری اوپن کرنے کی درخواست بھی دائر کی۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں اس اکاؤنٹ کو پہلے ہی سیل کر رکھا ہے۔
ایف آئی اے نے اس کیس میں مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کرایا ہے، اور پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی جانب سے تحریری جواب بھی جمع کرایا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے وکیل نعیم بخاری ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے مطابق ضمانت کا کوئی غلط استعمال نہیں ہوا، جبکہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے کہا کہ وہ متعدد بار ایف آئی اے کے سامنے پیش ہو چکی ہیں۔
ایف آئی اے نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف دو مقدمات درج کر رکھے ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔