جگر کے امراض میں اضافہ کیوں ہورہاہے؟ماہرین نے بڑی وجہ دریافت کرلی

جگر کے امراض میں اضافہ کیوں ہورہاہے؟ماہرین نے بڑی وجہ دریافت کرلی

 دنیا بھر میں جگر کے کینسر کے کیسز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور حالیہ سائنسی تحقیقات میں اس مہلک بیماری سے جڑے ممکنہ اہم عوامل پر نئی روشنی ڈالی گئی ہے۔

جگر کا کینسر کینسر کی اقسام میں اموات کے لحاظ سے چوتھے اور مجموعی کیسز کے اعتبار سے چھٹے نمبر پر شمار کیا جاتا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں اس کے کیسز میں تقریباً 25 سے 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایک تازہ تحقیق جو معروف طبی جریدے میں شائع ہوئی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس اور سوڈا کا زیادہ استعمال جگر کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

اس تحقیق میں 15 لاکھ سے زائد افراد کے غذائی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو گیارہ مختلف تحقیقی مطالعات سے حاصل کیا گیا تھا،اس طویل مدتی تجزیے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا چینی یا مصنوعی مٹھاس پر مبنی مشروبات جگر کے کینسر کے خطرے سے کسی حد تک منسلک ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :کیا کیٹو ڈائٹ جگر کے کینسر کے خدشات بڑھا رہی ہے؟ ماہرین صحت کا انتباہ

تحقیق کے دوران شرکاء سے سوالناموں کے ذریعے ان کی غذائی عادات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں، اور انہیں تقریباً اٹھارہ سال تک فالو کیا گیا تاکہ کینسر کے کیسز اور ان کے ممکنہ اسباب کا جائزہ لیا جا سکے، نتائج سے معلوم ہوا کہ میٹھے مشروبات کا مسلسل اور زیادہ استعمال جگر کے کینسر کی دو اہم اقسام کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔

دوسری جانب تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کے استعمال اور جگر کے کینسر کے درمیان کوئی واضح یا نمایاں تعلق سامنے نہیں آیا۔

محققین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نتائج حتمی نہیں ہیں، کیونکہ اب تک دستیاب شواہد اس بات کو براہ راست ثابت نہیں کرتے کہ میٹھے مشروبات جگر کے کینسر کا براہِ راست سبب بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جگر کے کینسر سے قبل ایک عام مسئلہ جگر میں چربی کا جمع ہونا ہے، جو وقت کے ساتھ دائمی ورم اور جگر کے افعال کی خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔

بعض مریضوں میں یہ کیفیت بڑھ کر جگر کے کینسر یا جگر کی مکمل ناکامی کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جس کے بعد بعض اوقات ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش آتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانی جسم میں ایک قدرتی دفاعی نظام موجود ہوتا ہے جو غیر معمولی خلیات کی افزائش کو روکتا ہے، مگر زیادہ چینی اور چکنائی والی غذائیں اس نظام کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

مزید تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جنک فوڈ اور فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال جگر کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف چربی کے جمع ہونے کا سبب بنتا ہے بلکہ خلیاتی سطح پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے۔

ماہرین نے اس کا موازنہ تمباکو نوشی کے نقصانات سے کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل غیر صحت مند غذاؤں کا استعمال جگر کے لیے اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روزمرہ غذائی عادات انسانی صحت پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں ان کے مطابق متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور میٹھے مشروبات کے استعمال میں کمی جگر سمیت مجموعی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

محققین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چینی اور چکنائی سے بھرپور غذاؤں کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تاکہ جگر کے کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

editor

Related Articles