چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے مسئلے کو چین اور امریکا کے تعلقات میں سب سے حساس اور اہم قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس معاملے کو درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکا تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے تاہم انہوں نے ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ تائیوان کے معاملے کو غلط طریقے سے ہینڈل کرنے سے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کو محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی سے بچا جا سکے۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکا دو بڑی عالمی طاقتیں ہیں اور عالمی استحکام ان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات مسلسل تبدیلی اور غیر یقینی کا شکار ہیں ایسے میں دونوں ممالک کا تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے اور دنیا اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستحکم دوطرفہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں۔
شی جن پنگ نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مختلف چیلنجز بڑھ رہے ہیں ایسے میں بڑے ممالک کے رہنماؤں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دونوں ممالک مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔
چینی صدر نے زور دیا کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، اور اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔