پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے معمولی مگر مثبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی قومی ذخائر کی سطح21 ارب 33 کروڑ 67لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی معیشت کے لیے یہ پیش رفت ایک حوصلہ افزا اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق 8 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے پاس موجود سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں ایک کروڑ 70 ڈالر کا اضافہ ہوا، اس اضافے کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر کی مجموعی مالیت 15 ارب 86 کروڑ74لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر بھی ملکی مجموعی ذخائر کا اہم حصہ ہیں، کمرشل بینکوں کے پاس اس وقت 5 ارب46 کروڑ 93 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
اس طرح اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ذخائر کو ملا کر ملک کے مجموعی قومی زرمبادلہ ذخائر کا حجم 21 ارب 33 کروڑ 67 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ملکی مالیاتی استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے بیرونی ادائیگیوں، درآمدات اور قرضوں کی ادائیگی میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔