پاکستان کے لیے ایک اور اچھی خبر ہے جس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے مزید ایک ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔ یہ رقم 20 اپریل کو منتقل کی گئی اور یہ حال ہی میں طے پانے والے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ پروگرام کی دوسری قسط ہے۔
اس پروگرام کے تحت پہلی قسط، جو 2 ارب ڈالر پر مشتمل تھی 15 اپریل کو پہلے ہی موصول ہو چکی تھی۔ اس طرح مجموعی طور پر سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی مکمل سپورٹ پاکستان کو فراہم کی جا رہی ہے جو ملکی زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس مالی تعاون سے ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئے گی اور موجودہ معاشی دباؤ میں کمی واقع ہوگی جس سے روپے پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب معاشی صورتحال کے تناظر میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ حالیہ عرصے میں بین الاقوامی مالیاتی معاملات میں دباؤ کے باعث پاکستان کو مشکلات کا سامنا رہا۔ اس پس منظر میں بعض مالی رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات سے کچھ مالیاتی رقوم کی واپسی یا انتظامی تبدیلیوں کی اطلاعات بھی زیر بحث رہیں جس نے معاشی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا تھا۔
ایسے وقت میں سعودی عرب نے ایک بار پھر برادر اسلامی ملک کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ یہ مالی معاونت نہ صرف فوری دباؤ کم کرے گی بلکہ مجموعی طور پر ملک کے معاشی استحکام کی طرف ایک مثبت قدم ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی بہتری متوقع ہے۔