ایک انتہائی نایاب اور حیران کن معدنی مادہ ویویانائٹ (Vivianite) دنیا بھر میں ماہرینِ ارضیات اور معدنیات کے شوقین افراد کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جسے اکثر ’’ڈیتھ کرسٹل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ہائیڈریٹڈ آئرن فاسفیٹ منرل مخصوص ماحول میں انسانی یا حیوانی باقیات پر براہِ راست تشکیل پا سکتا ہے، خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں پانی زیادہ ہو، آکسیجن کی کمی ہو اور فاسفیٹ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہو۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جب جسم گلنے سڑنے کے عمل سے گزرتا ہے تو ہڈیوں اور دانتوں میں موجود آئرن اردگرد کے کیمیائی عناصر کے ساتھ ردعمل کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ کرسٹل بننا شروع ہو جاتے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں یہ کرسٹل عموماً بے رنگ یا سفید دکھائی دیتے ہیں، تاہم وقت کے ساتھ اور خاص طور پر روشنی کے اثر میں آنے کے بعد ان کا رنگ گہرا نیلا یا روشن سبز ہو جاتا ہے، جو انہیں ایک پراسرار اور دلکش شکل دیتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک نہایت غیر معمولی قدرتی کیمیائی عمل ہے جو زمین کے اندر ہونے والی پیچیدہ تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ویویانائٹ نہ صرف معدنیات کے ماہرین کے لیے دلچسپی کا باعث ہے بلکہ اسے ایک منفرد قدرتی مظہر بھی قرار دیا جاتا ہے۔
اس نایاب کرسٹل کی تشکیل کا عمل ابھی مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا، تاہم اسے جیوکیمسٹری اور معدنیات کی دنیا میں ایک اہم اور حیران کن دریافت سمجھا جاتا ہے۔