صوبائی دارالحکومت کے شہری ایک بار پھر ہوشیار ہو جائیں کیونکہ ٹریفک پولیس کو چالان کرنے کا نیا ہدف دے دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹریفک وارڈنز کو روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 25 چالان کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
ایس پی ٹریفک لاہور ظفر عباس نقوی نے ڈی ایس پیز اور سیکٹر انچارجز کو ان نئے احکامات سے باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ نئے اہداف کے تحت اب لفٹر انچارجز بھی روزانہ کی بنیاد پر 5 کے بجائے 10 چالان کرنے کے پابند ہوں گے۔ ایس پی ٹریفک نے ہدایت کی ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کی جانچ پڑتال کے لیے ٹریفک وارڈنز خصوصی ناکہ بندی کریں، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر چالان اور لائسنس ڈائری بھی چیک کی جائے گی۔
ایس پی ظفر عباس کا کہنا ہے کہ سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرنے والے ٹریفک وارڈنز اور پٹرولنگ افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ڈی ایس پیز اور سیکٹر انچارجز کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے وارڈنز کی نشاندہی کریں۔ مزید برآں، چالان ٹارگٹ مکمل نہ کرنے والے اہلکاروں کے لیے فیلڈ میں کوئی جگہ نہیں ہوگی اور انہیں دفاتر بھجوا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ای چالان ڈیفالٹرز کی گاڑیاں بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ بھی پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔
محکمہ ٹریفک کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بھاری جرمانوں سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کریں، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنائیں اور گاڑی کے درست دستاویزات ہمیشہ ہمراہ رکھیں۔ مہم کے پیشِ نظر شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں اور مصروف شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد شہر میں ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور حادثات میں کمی لانا ہے۔ دوسری جانب شہریوں نے چالان ٹارگٹ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ قانون پر یکساں عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور جرمانوں کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم بھی چلائی جائے تاکہ ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین کی بہتر سمجھ بوجھ مل سکے۔