حکومتِ پاکستان کی جانب سے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں حالیہ فیصلہ سی این جی سیکٹر سے گیس کی فراہمی روک کر اسے پاور سیکٹر کو منتقل کرنا شامل ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور پیداوار میں کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ محدود وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے۔
اس پالیسی کے تحت سی این جی سیکٹر کو فراہم کی جانے والی 48 ایم ایم سی ایف ڈی گیس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ پاور سیکٹر کے لیے گیس کا کوٹہ 108 ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھا کر 150 ایم ایم سی ایف ڈی کر دیا گیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لائی جا سکے گی۔ تاہم، اس اضافے کے باوجود پاور سیکٹر کو گیس کی شدید قلت کا سامنا بدستور برقرار ہے، جو توانائی کے بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت گھریلو صارفین کو بھی کسی حد تک ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس منصوبے کے مطابق گھریلو صارفین کو کھانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی کو ترجیح دی جائے گی تاکہ عوام کو روزمرہ ضروریات میں کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
تاہم اس فیصلے کے باعث سی این جی سیکٹر سے وابستہ افراد اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اقدامات وقتی ریلیف فراہم کر سکتے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق توانائی کے دیرپا حل کے لیے جامع حکمت عملی اور متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچا جا سکے۔