حج 2026 : پاکستانی عازمین نے مجموعی طور پر کتنی رقم خرچ کی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے

حج  2026 : پاکستانی عازمین نے مجموعی طور پر کتنی رقم خرچ کی؟ اعدادوشمار سامنے آگئے

رواں سال سرکاری حج اسکیم کے تحت ایک بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے فریضۂ حج ادا کیا،جس کے بعد  اخراجات اور پیکجز کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔

مجموعی طور پر 1 لاکھ 19 ہزار 210  پاکستانی عازمین حج نے مقدس فریضہ ادا کیا، جن پر تقریباً 139 ارب 16 کروڑ روپے کے اخراجات آئے،  یہ اعداد و شمار حج انتظامات اور سہولیات کے حجم کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔

لانگ اور شارٹ حج پروگرام 

اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر سے  77 ہزار 743 حجاج نے 40 سے 45 روزہ لانگ حج پروگرام کا انتخاب کیا،  اس پروگرام کے تحت فی حاجی نے تقریباً 11 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کیے، جبکہ مجموعی اخراجات کی بات کریں تو وہ تقریباً 89 ارب 40 کروڑ روپے رہے۔

دوسری جانب 41 ہزار 467 عازمین نے 20 سے 22 روزہ شارٹ حج پروگرام کے تحت حج ادا کیا، جو مجموعی کوٹے کا 34.8 فیصد بنتا ہے ، اس پروگرام میں ہر حاجی نے تقریباً 12 لاکھ روپے ادا کیے، اور مجموعی لاگت تقریباً 49 ارب 76 کروڑ روپے رہی۔

مرد و خواتین حجاج کی تعداد

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال حج ادا کرنے والوں میں 50 ہزار 114 خواتین اور 65 ہزار 182 مرد شامل تھے ،  یہ تعداد ملک بھر سے حج کے لیے بڑھتی ہوئی طلب اور رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

قسطوں اور اضافی سہولیات کی تفصیل

لانگ حج پروگرام کے تحت عازمین نے پہلی قسط میں 5 لاکھ روپے اور دوسری قسط میں 6 لاکھ 50 ہزار روپے جمع کرائے،  اسی طرح شارٹ حج پروگرام کے حجاج نے پہلی قسط میں 5 لاکھ 50 ہزار روپے اور دوسری قسط میں 6 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کیے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کے کیمپس کا دورہ، انتظامات کا جائزہ

مزید یہ کہ حجاج کو اضافی رہائشی سہولیات کے اختیارات بھی فراہم کیے گئے،  دو بیڈ والے کمرے کے انتخاب پر فی حاجی 2 لاکھ روپے اضافی جبکہ تین بیڈ والے کمرے کے انتخاب پر فی حاجی 67 ہزار روپے اضافی وصول کیے گئے۔

واضح رہے کہ یہ تمام اخراجات صرف سرکاری حج اسکیم کے ہیں ، اس میں پرائیویٹ حج اسکیم شامل نہیں، جس کے تحت تقریباً 60 ہزار پاکستانیوں نے حج ادا کیا ،  پرائیویٹ پیکجز کی مالیت 12 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک رہی، جو مختلف سہولیات اور معیار کے مطابق تھے۔

مجموعی صورتحال اور اہم پہلو

ماہرین کے مطابق حج انتظامات کا یہ بڑا مالی حجم حکومت کی جانب سے منظم انتظامی ڈھانچے اور سہولیات کی فراہمی کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب بڑھتے ہوئے اخراجات عام شہریوں کے لیے حج اخراجات کو مزید اہم بحث بنا رہے ہیں۔

یوں اس سال کا حج نہ صرف تعداد کے لحاظ سے اہم رہا بلکہ مالی اعتبار سے بھی ایک بڑا آپریشن ثابت ہوا، جس میں لاکھوں پاکستانیوں نے اپنے ایمان کی تکمیل کے لیے مقدس سفر کیا۔

حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری

خیال رہے کہ ادائیگی حج کے بعد پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 34 ہزار حجاج کرام پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ 84 ہزار 791 پاکستانی حجاج اب بھی سعودی عرب میں موجود ہیں۔

editor

Related Articles