جدید سن گلاسز سے صدیوں پہلے آرکٹک کے مقامی انویٹ اور یوپک باشندوں نے برف پر پڑنے والی تیز دھوپ سے اپنی آنکھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک منفرد اور مؤثر حل تیار کر لیا تھا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق 2 ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل یہ برفانی چشمے ہاتھی دانت، ہڈی، بہتی لکڑی اور ہرن کے سینگ سے تراشے جاتے تھے۔ ان چشموں میں انتہائی باریک افقی شگاف بنائے جاتے تھے، جو آنکھوں تک پہنچنے والی روشنی کی مقدار کو کم کر دیتے تھے۔
ماہرین کے مطابق برف سے منعکس ہونے والی سورج کی تیز شعاعیں سنو بلائنڈنس کا باعث بن سکتی ہیں، جو قرنیہ پر شدید دھوپ کے اثرات کی وجہ سے ہونے والی ایک تکلیف دہ کیفیت ہے۔ ان قدیم چشموں کا ڈیزائن اسی خطرے سے بچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
ماہرین آثارِ قدیمہ اور عجائب گھروں، جن میں اسمتھسونین انسٹی ٹیوشن اور کینیڈین میوزیم آف ہسٹری بھی شامل ہیں، کے مطابق یہ دنیا میں حفاظتی چشموں کی قدیم ترین مثالوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف سادہ اوزار نہیں تھے بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والے تجربے، ماحول کی گہری سمجھ اور انسانی جسم کے مشاہدے کا نتیجہ تھے۔ اس دور میں نہ جدید سائنس موجود تھی اور نہ ہی آپٹیکل ٹیکنالوجی، اس کے باوجود مقامی باشندوں نے ایسا عملی حل تیار کیا جو آج کے سن گلاسز کے بنیادی اصول سے حیرت انگیز حد تک مشابہت رکھتا ہے۔
یہ ایجاد اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ انسانی ذہانت اور فطرت کے مشاہدے نے ہزاروں سال پہلے ہی ایسے مسائل کا حل تلاش کر لیا تھا، جنہیں جدید دنیا بعد میں سائنسی انداز میں سمجھ سکی۔