گھونگوں کی فارمنگ سے روزگار کمانے کا نیا طریقہ، مانسہرہ کی خاتون کامنفرد کاروبار

گھونگوں کی فارمنگ سے روزگار کمانے کا نیا طریقہ، مانسہرہ کی خاتون کامنفرد کاروبار

پاکستان میں جہاں زراعت اور لائیو اسٹاک سے وابستہ شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، وہیں مانسہرہ سے تعلق رکھنے والی سدرہ سجاد نے ایک ایسے منفرد کاروبار کا آغاز کیا جس نے نہ صرف انہیں ملک بھر میں منفرد شناخت دلائی بلکہ مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر دیے۔

سدرہ سجاد کو پاکستان کی پہلی اور واحد خاتون سنیل فارمر (گھونگے پالنے والی خاتون) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے سنیل فارمنگ کا آغاز اس مقصد کے تحت کیا کہ عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتی ہوئی اس صنعت کو پاکستان میں بھی متعارف کرایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں :مراکش کے گاؤں میں چاند کی روشنی سے روشن گلیاں، حقیقت کیا ہے؟

سنیل فارمنگ میں گھونگوں سے حاصل ہونے والا ایک خاص لیس دار مادہ نہایت قیمتی سمجھا جاتا ہے۔ یہ مادہ دنیا بھر میں جلد کی دیکھ بھال سے متعلق مصنوعات، بشمول فیس کریمز، سیرمز اور دیگر اسکن کیئر پروڈکٹس کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مادے کو جلد کی نمی برقرار رکھنے، مرمت اور خوبصورتی کے لیے مفید تصور کیا جاتا ہے۔

سدرہ سجاد کی اس منفرد کاوش نے نہ صرف سنیل فارمنگ کو پاکستان میں متعارف کرایا بلکہ مانسہرہ کے کئی افراد کو بھی اس شعبے سے وابستہ ہونے کی ترغیب دی۔ مقامی افراد کے مطابق اب علاقے کے متعدد خاندان سنیل فارمنگ سے آمدنی حاصل کر رہے ہیں، جس سے ان کے معاشی حالات میں بہتری آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بار بار چوریوں کا منفردحل،پولیس سے مایوس شہری کی انوکھی کارروائی

سدرہ سجاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سنیل فارمنگ ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے، جس میں سرمایہ کاری اور جدید تربیت کے ذریعے روزگار اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر اس صنعت پر مزید توجہ دی جائے تو یہ دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی سدرہ سجاد کی کامیابی کو خوب سراہا جا رہا ہے، جہاں صارفین انہیں خواتین کے لیے ایک متاثر کن مثال قرار دے رہے ہیں۔ متعدد افراد کا کہنا ہے کہ روایتی شعبوں سے ہٹ کر ایسے منفرد کاروباری ماڈلز نوجوانوں اور خواتین کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔

editor

Related Articles