اسلام آباد:ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ملازمین کے لیے اہم پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مقررہ مدت تک کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا اختیار دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ عوامی بہبود کے لیے بہتر فیصلے کرنا ہے۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن رہے ہیں جس کی وجہ سے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے بعد متعدد ادارے اور بینک بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور حکومت اسی ماڈل پر عمل پیرا ہے۔ بے ضابطگیوں سے متعلق سوالات کے دوران اعظم تارڑ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہونے والی بے ضابطگیوں سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام میں 14 کروڑ روپے کا غبن ہوا، لیکن اب تک 7 کروڑ روپے سے زائد کی ریکوری کی جاچکی ہے۔ ان کے مطابق 12 سے 14 سو ارب روپے کی تقسیم کے مقابلے میں یہ رقم نہایت معمولی ہے اور زیادہ تر مسائل عملے کی غفلت کے باعث پیدا ہوئے۔
اجلاس میں پاکستان منرلز ریگولیٹری اتھارٹی بل 2024 سمیت کھاد پروڈیوسرز کو گیس کی قیمت میں 17 ارب روپے سالانہ سبسڈی سے متعلق رپورٹیں پیش کی گئیں۔ اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے سینیٹر عون عباس کے رویے پر ڈپٹی چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں وارننگ جاری کی اور کہا کہ پارلیمانی نظم و ضبط یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس کو جمعے کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔