بندروں کی انوکھی عادت، جنک فوڈ کے بعد مٹی کھا کر پیٹ ٹھیک کرنے کا انکشاف

بندروں کی انوکھی عادت، جنک فوڈ کے بعد مٹی کھا کر پیٹ ٹھیک کرنے کا انکشاف

ایک نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ گبرالٹر میں رہنے والے بندر انسانوں کے جنک فوڈ کے اثرات کم کرنے کے لیے مٹی کھانے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :انشورنس فراڈ کا انوکھا طریقہ، ریچھ بن کر تباہی، 3 ملزمان جیل پہنچ گئے

تحقیق کے مطابق سیاحوں کی جانب سے دیے جانے والے یا چوری کیے گئے چاکلیٹ، چپس، آئس کریم اور دیگر غیر صحت مند کھانے بندروں کی قدرتی خوراک سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ خوراک ان کے نظامِ ہاضمہ پر منفی اثر ڈال رہی ہے جس سے متلی اور اسہال جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بندر مٹی کھا کر اپنے معدے کی جلن کم کرتے ہیں۔ مٹی نہ صرف معدے میں ایک حفاظتی تہہ بناتی ہے بلکہ نقصان دہ اجزاء کے اثر کو بھی کم کرتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مٹی میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا بندروں کے آنتوں کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :نایاب شیلبی کوبرا کا خوفناک حادثہ، لاکھوں ڈالرز کا نقصان

ماہرین کے مطابق یہ رویہ بندروں میں سماجی طور پر سیکھا گیا ہے۔ مختلف گروہوں میں مٹی کی پسند بھی مختلف دیکھی گئی ہے۔ بندروں کی یہ عادت براہ راست انسانوں کے قریب رہنے اور سیاحتی علاقوں میں جنک فوڈ کی دستیابی کا نتیجہ ہے۔ بندر وہی چیزیں کھا رہے ہیں جو انسانوں کے لیے بھی غیر صحت مند سمجھی جاتی ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر سلویئن لیموئن کے مطابق یہ رویہ انسانوں اور بندروں دونوں میں ایک جیسا ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں زیادہ کیلوریز اور میٹھے کھانے کی طرف فطری طور پر متوجہ ہوتے ہیں۔یہ تحقیق سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اس نے جنگلی حیات اور انسانی اثرات کے تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *