عرفان صدیقی کا پی ٹی آئی کو مشورہ: مزاکرات کی پیشکش سے فائدہ اٹھائیں

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کی گئی تازہ پیشکش سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے لئے ٹرین بہت پہلے چھوٹ چکی تھی، اب انہیں وزیراعظم کی پیشکش کو سنجیدگی سے لے کر اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور دھرنے نہ تو ماضی میں کوئی کامیابی حاصل کر سکے اور نہ آئندہ اس سے کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر مسئلے کا حل صرف اور صرف سنجیدہ مذاکرات ہی میں ہے۔ لیکن پی ٹی ائی کے بعض ارکان مزاکرت نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی میں مذاکرات کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ وہ ہر معاملے میں اپنے قائد کی طرح ضد پر اڑے رہتے ہیں اور یہی ضد ان کے لیے نقصان کا سبب بنتی ہے۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور اب یہ پی ٹی آئی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول کریں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی انا اور ضد سے ہٹ کر اس پیشکش کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے اور مذاکرات کی میز پر آ کر اپنے جائز مطالبات پیش کرنا چاہیے۔

مزاکراتی کمیٹی کے ترجمان نے بھی اس بات کی تائید کی کہ پی ٹی آئی کو وزیراعظم کی پیشکش سے فائدہ اٹھا کر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آگے آنا چاہیے، تاکہ ملک میں سیاسی استحکام اور مسائل کا حل ممکن ہو سکے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے موقف میں لچک دکھانی چاہیے اور موجودہ صورتحال میں اپنے جائز مطالبات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس موقع پر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ قومی سطح پر مسائل کا حل صرف اس صورت میں ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں اور مشترکہ طور پر مفاہمت کی راہ اپنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لئے تمام سیاسی قوتوں کو سنجیدہ اور مثبت طریقے سے کام کرنا چاہیے۔

تفصیل میں بات کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے واضح کیا کہ ملکی سیاست میں ایک مرتبہ پھر استحکام لانے کے لیے مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور پی ٹی آئی کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

editor

Related Articles