وفاقی حکومت اور حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور دیگر اہم قومی امور پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے جس کے بعد بجٹ کی منظوری اور پارلیمانی کارروائی کے دوران کسی بڑی رکاوٹ کا امکان کم ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ایوان صدر میں صدر مملکت اور وزیراعظم کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں بجٹ سے متعلق معاملات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ملاقات کے دوران پیپلز پارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے بعض تحفظات اور تجاویز پر مثبت پیش رفت ہوئی، جس کے بعد دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ترقیاتی فنڈز، صوبوں کے مالی مفادات، عوامی فلاحی منصوبوں اور بعض دیگر اقتصادی امور پر تحفظات تھے، تاہم حالیہ مشاورت کے نتیجے میں ان معاملات پر قابل قبول پیش رفت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اب بجٹ کے حوالے سے اتحادی جماعت کی جانب سے کسی بڑی مخالفت یا اعتراض کا امکان نہیں رہا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مزید مشاورت اور بجٹ دستاویزات کو حتمی شکل دینے کے لیے بجٹ شیڈول میں بھی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی تناظر میں قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس چوتھی مرتبہ ملتوی کر دیا گیا ہے، جو اب وزیراعظم کی زیر صدارت بدھ کو منعقد ہوگا۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے اجلاس کے التوا کے بارے میں کونسل کے ارکان کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح اقتصادی سروے جو پہلے 9 جون کو پیش کیا جانا تھا، اب 11 جون کو پیش کیا جائے گا جبکہ وفاقی بجٹ 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ رابطوں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے اتحادی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی ہے اور اب حکومت نسبتاً زیادہ اعتماد کے ساتھ بجٹ پیش کرنے کی پوزیشن میں نظر آتی ہے۔
حکومتی اتحاد میں ہم آہنگی برقرار رہنے سے نہ صرف بجٹ کی منظوری کا عمل آسان ہوگا بلکہ آئندہ مالی سال کی معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے بھی سیاسی استحکام کو تقویت ملے گی۔