امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کے بعد یورپ میں سیاست نے نیا رخ اختیار کر لیا، ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے اور کشیدہ ملاقات کے بعد سارا یورپ یوکرین کی حمایت میں بول پڑا، عالمی رہنماؤں کا شدید ردعمل بھی سامنے آ گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ملاقات کے بعد یورپ میں سیاست نے نیا رخ اختیار کر لیا، ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے اور کشیدہ ملاقات کے بعد سارا یورپ یوکرین کی حمایت میں بول پڑا، عالمی رہنماؤں کا شدید ردعمل بھی سامنے آ گیا۔
جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے صدور کے درمیان انتہائی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے رہنماؤں اور حکام کی جانب سے بڑے پیمانے پر رد عمل سامنے آ رہا ہے اور امریکا کی مذمت کی جا رہی ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ ’ امریکا، آپ کی حمایت اور مجھے امریکا کے دورے کی دعوت پر آپ کا شکریہ، کانگریس اور امریکی عوام کا بھی شکریہ، یوکرین ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے کام کر رہا ہے۔
جرمن چانسلر اولاف شولز
یوکرین کے صدر کے ایکس پر پیغام کے بعد جرمن چانسلر اولاف شولز نے لکھا کہ یوکرین کے شہریوں سے زیادہ کوئی امن نہیں چاہتا! ہم سب مل کر دیرپا اور منصفانہ امن کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ یوکرین جرمنی اور یورپ پر انحصار کر سکتا ہے۔
فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون
امریکی اور یوکرین کے صدر کے درمیان ملاقات کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ روس ایک جارح ملک ہے اور یوکرین اس کی جارحیت سے متاثر ہے۔ ہم نے 3 سال قبل یوکرین کی مدد کی تھی اور روس پر پابندیاں عائد کی تھیں اور ہمیں ایسا کرتے رہنا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ’امریکہ، یورپ، کینیڈا، جاپان اور بہت سے دوسرے ممالک کو یوکرین کی حمایت جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ وہ اپنے وقار، آزادی، بچوں اور یورپ کی سلامتی کے لیے لڑ رہے ہیں‘۔
یورپی کمیشن کی صدرارسلا وان ڈیرلیئن
ادھر یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے یوکرین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرینی صدر کا وقار یوکرین کے عوام کی بہادری کا اعتراف کرتا ہے۔ انہوں نے یوکرینی صدر اور عوام سے کہا کہ آپ مضبوط بنیں، بہادر بنیں اور بے خوف رہیں۔یوکرین کے پیارے صدر آپ کبھی اکیلے نہیں ہی، ہم منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یوکرینی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین تنہا نہیں ہے، سپین کی حکومت اور اس کے عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ناروے کے وزیراعظم جونس گہرسٹر
ناروے کے وزیر اعظم جونس گہر سٹر نے یوکرین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے وائٹ ہاؤس میں جو کچھ دیکھا وہ انتہائی غیر سنجیدہ اور مایوس کن ہے۔ یوکرین کو اب بھی امریکی حمایت کی ضرورت ہے، اور اس کی سلامتی امریکا اور یورپ دونوں کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اپنے عوام کو روس کے وحشیانیہ حملوں سے بچانے کی کوشش کی ہے اور یوکرینی عوام ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ الزام کہ زیلنسکی تیسری عالمی جنگ کے ساتھ ’جوا ‘ کھیل رہے ہیں، انتہائی غیر معقول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناروے یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیں امید ہے کہ امریکا یوکرین میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی اہمیت کو سمجھے گا۔
چیک جمہوریہ کے صدر پیٹرپاویل
چیک جمہوریہ کے صدر پیٹر پاویل جو دسویں سالگرہ منا رہے ہیں نے کہا کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپ اپنی کوششیں تیز کرے۔
ہالینڈ کے وزیر اعظم ڈک شوف
ہالینڈ کے وزیر اعظم ڈک شوف نے کہا کہ ہالینڈ یوکرین کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم پائیدار امن چاہتے ہیں اور جارحیت کی اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں جو روس نے یوکرین، اس کے شہریوں اور یورپ کے لیے شروع کی ہے۔
ایسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس ساہکنا
ایسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس ساہکنا نے کہا کہ امن کی راہ میں واحد رکاوٹ پیوٹن کی جانب سے جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ ہے۔ اگر روس لڑائی بند کر دے تو کوئی جنگ نہیں ہو گی۔ یوکرین بھی لڑنا بند کر دے گا۔ یوکرین کے لیے ایسٹونیا کی حمایت غیر متزلزل ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یورپ آگے بڑھے اور اپنا کردار ادا کرے۔
پولینڈ کے وزیراعظم ڈونالڈ ٹسک
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے کہا کہ پیارے ولادیمیر زیلنسکی، یوکرین کے پیارے دوست، آپ اکیلے نہیں ہیں۔جرمن پارلیمان میں کنزرویٹو پارٹی گروپ کے ڈپٹی جوہان واڈیفل نے کہا کہ یوکرین کو ہمیشہ ہماری حمایت حاصل رہے گی، یوکرین اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھے گا۔