بلوچستان کے اہم سرحدی شہر چمن میں پاکستانی ایل پی جی کی شدید قلت اور عدم دستیابی کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔
مقامی مارکیٹ سے پاکستانی گیس غائب ہونے کے بعد اب چمن کے باسی ایرانی ایل پی جی 400 روپے سے لے کر 450 روپے فی کلوگرام کی ہوش ربا قیمت پر خریدنے پر مجبور ہیں۔
گیس کی اس بلیک مارکیٹنگ اور من مانے نرخوں نے غریب اور متوسط طبقے پر مہنگائی کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، جس سے چولہے ٹھنڈے ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
اوگرا احکامات کی ہوا میں اڑانے کی کوشش
دلچسپ اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایل پی جی کی سرکاری قیمتوں میں واضح کمی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن چمن کی ضلعی انتظامیہ ان احکامات پر عمل درآمد کروانے میں تاحال ناکام دکھائی دیتی ہے۔
دکان داروں اور گیس فروخت کرنے والوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ خود اس مہنگائی کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ اس کے اصل ذمہ دار سپلائرز ہیں، جو انہیں مہنگے داموں گیس فراہم کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ آگے سستی گیس بیچنے سے قاصر ہیں۔
شہریوں کا ڈپٹی کمشنر سے فوری ایکشن کا مطالبہ
مہنگائی کے ستائے ہوئے چمن کے شہریوں اور مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں 400 سے 450 روپے کلو تک گیس خرید کر گھر چلانا یا کاروبار کرنا ان کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔
عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر چمن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحران کا فوری نوٹس لیں اور مقامی گیس ایجنسیوں کو پابند کریں کہ وہ شہر میں پاکستانی ایل پی جی کی باقاعدہ اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں۔
شہریوں کے مطابق اگر پاکستانی گیس مناسب نرخوں پر دستیاب ہو جائے تو وہ مہنگی ایرانی گیس خریدنے کے عذاب سے بچ سکتے ہیں۔
سرحدی شہروں میں اسمگلنگ اور سپلائی کے مسائل
پاک افغان اور پاک ایران سرحد کے قریب واقع بلوچستان کے اضلاع طویل عرصے سے ایندھن اور دیگر بنیادی اشیاء کی اسمگلنگ یا غیر قانونی سپلائی چین کے زیر اثر رہے ہیں۔
چمن جیسے دور دراز سرحدی شہر میں جب بھی وفاقی یا صوبائی سطح پر سپلائی کا نظام متاثر ہوتا ہے، تو مقامی مافیا فوری طور پر فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی گیس یا تیل کو بلیک میں فروخت کرنا شروع کر دیتا ہے۔
ماضی میں بھی گیس مافیا کی جانب سے مصنوعی قلت پیدا کر کے شہریوں کو لوٹنے کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ مقامی سطح پر متبادل گیس پائپ لائن نیٹ ورک کا نہ ہونا ہے۔
انتظامیہ کی خاموشی اور عوامی بے بسی
چمن میں ایل پی جی کا موجودہ بحران محض سپلائی کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی کنٹرول کی کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر میں اوگرا کی قیمتیں نافذ ہیں، ایک مخصوص سرحدی شہر میں دکان داروں اور سپلائرز کا قانون سے مکر جانا تشویش ناک ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مقامی پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور انتظامیہ گیس مافیا کے سامنے بے بس ہو چکی ہیں۔ اگر ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اداروں نے سپلائرز کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی نہ کی تو یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں غریب عوام کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔