4 کروڑ 60 لاکھ سال بعد بھی مچھر کے پیٹ میں خون موجود، سائنسدان حیران

4 کروڑ 60 لاکھ سال بعد بھی مچھر کے پیٹ میں خون موجود، سائنسدان حیران

سائنسدانوں نے ایک حیرت انگیز دریافت میں 4 کروڑ 60 لاکھ سال پرانا مچھر دریافت کیا ہے، جو قدیم چٹانی تہوں میں انتہائی محفوظ حالت میں ملا۔

ماہرین کے مطابق یہ نایاب فوسل پراگیتہاسک دور کے ماحولیاتی نظام اور ابتدائی حشرات کی زندگی کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں :خلائی مخلوق صرف 16 دن میں زمین پر پہنچ سکتی ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مچھر عام عنبر (Amber) میں محفوظ ہونے والے نمونوں کے برعکس اپنی باریک ساخت کے ساتھ ملا، جس میں اس کے پروں اور خوراک لینے والے حصے بھی واضح حالت میں موجود تھےمزید یہ کہ مچھر کے پیٹ میں خون کی باقیات کی دریافت نےسائنسدانوں کو حیران کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں :کائنات کا حیرت انگیز سچ، ہم ہمیشہ ماضی ہی دیکھتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فوسلز زمین کے قدیم موسم، حیاتیاتی تنوع اور لاکھوں سال میں آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ کبھی کبھی انتہائی چھوٹی مخلوقات بھی اپنے اندر تاریخ کے بڑے راز چھپائے رکھتی ہیں، جو موجودہ دنیا کو کروڑوں سال پرانے ماضی سے جوڑ دیتی ہیں۔

editor

Related Articles