کائنات کا حیرت انگیز سچ، ہم ہمیشہ ماضی ہی دیکھتے ہیں

کائنات کا حیرت انگیز سچ، ہم ہمیشہ ماضی ہی دیکھتے ہیں

روشنی کی رفتار تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ کائنات کی سب سے تیز چیز ہے، لیکن پھر بھی اسے سفر کرنے میں وقت لگتا ہے، اور یہی بات ہمیں کائنات کو سمجھنے کا ایک حیرت انگیز اصول بتاتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم خلا میں کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو ہم اسے اس کی موجودہ حالت میں نہیں دیکھ رہے ہوتے، بلکہ ہم اسے اس وقت کی حالت میں دیکھ رہے ہوتے ہیں جب اس کی روشنی وہاں سے نکلی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :60ملین نوری سال دور کائنات نے دل بنا دیا

مثال کے طور پر، جو سورج ہم آسمان میں دیکھتے ہیں وہ اصل میں 8 منٹ پرانا ہوتا ہے، کیونکہ اس کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں اتنا وقت لگتا ہے۔

اسی طرح سب سے قریبی ستارہ ’’پروکسیما سینٹوری‘‘ ہمیں 4 سال پہلے جیسا نظر آتا ہے، نہ کہ آج جیسا اور اینڈرومیڈا کہکشاں جسے ہم ننگی آنکھ سے بھی دیکھ سکتے ہیں، اس کی روشنی ہم تک 2.5 ملین سال پرانی حالت میں پہنچتی ہے، یعنی انسان کے وجود میں آنے سے بھی بہت پہلے کی تصویر۔

یہ بھی پڑھیں :زمین پر 2 ملین سال کی مسلسل بارش ،تاریخ کا بڑا موسمیاتی موڑ

اگر ہم اس خیال کو الٹا سوچیں تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے۔ فرض کریں کہ زمین سے 2000 نوری سال دور کوئی تہذیب موجود ہے اور وہ اپنی دوربین سے ہمیں دیکھ رہی ہے، تو وہ آج کی زمین نہیں دیکھے گی۔ وہ زمین کو رومی سلطنت کے ابتدائی دور میں دیکھ رہی ہوگی، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ تھا۔

اور اگر کوئی تہذیب 6 کروڑ 50 لاکھ نوری سال دور ہو تو وہ زمین کو اس وقت دیکھے گی جب ڈائنوسار ختم ہو رہے تھے۔مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگر کوئی 4.5 ارب نوری سال دور ہو تو وہ زمین کو دیکھ ہی نہیں سکے گا، کیونکہ اس وقت زمین موجود ہی نہیں تھی۔

یہ کوئی تصور یا کہانی نہیں بلکہخالص طبیعیات (Physics) ہے۔ کائنات میں کوئی موجودہ وقت ایک ساتھ ہر جگہ موجود نہیں ہوتا۔ ہر جگہ اپنا الگ لمحہ ہوتا ہے اور معلومات صرف روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :چین میں نایاب مکمل البینو پانڈا کی دریافت

اسی لیے ماہرینِ فلکیات جب کائنات کو دیکھتے ہیں تو وہ دراصل ماضی میں جھانک رہے ہوتے ہیں۔ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایسی کہکشائیں بھی دیکھی ہیں جو بگ بینگ کے صرف 30 کروڑ سال بعد وجود میں آئیں۔

ہم نے وقت میں سفر نہیں کیا، روشنی نے کیا۔ وہ اربوں سال پرانی کہانیاں لے کر ہم تک پہنچی ہے۔اس کائنات میں آپ جس لمحے کواب سمجھ رہے ہیں، وہ پوری کائنات کے لیے پہلے سے گزر چکا ایک ماضی ہے۔

editor

Related Articles