بی بی سی کی یکطرفہ اور گمراہ کن رپورٹنگ، آزاد کشمیر حکومت نے حقائق سامنے رکھ دئیے

بی بی سی کی یکطرفہ اور گمراہ کن رپورٹنگ، آزاد کشمیر حکومت نے حقائق سامنے رکھ دئیے

برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں پولیس نے خوراک، ادویات اور ایندھن لے جانے والے شہریوں کو روک کر یہ سامان ضائع کرنے کا حکم دیا۔ تاہم دستیاب شواہد اور سرکاری مؤقف کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعوے کی تائید کے لیے خاطر خواہ ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

رپورٹ کی سرخی اور بنیادی الزام مکمل طور پر ایک ایسے شخص کے بیان پر مبنی ہے جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور جسے فرضی نام سے پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں نہ تو کوئی ویڈیو ثبوت فراہم کیا گیا، نہ آزاد گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کی جانب سے اس الزام کی تصدیق پیش کی گئی۔

دوسری جانب رپورٹ میں شامل پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مؤقف میں ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر اشیائے ضروریہ کی ترسیل جاری ہے اور آمدورفت میں رکاوٹ کی بنیادی وجہ احتجاجی سرگرمیاں اور راستوں کی بندش تھی، نہ کہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی پابندی۔

یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیر حکومت کا ’کالعدم جے اے اے سی‘ کے ساتھ مذاکرات کا امکان مسترد ، معطل ایف آئی آرز بحال کر دی گئیں

23 جون کو چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور انسپکٹر جنرل پولیس کی مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی ایسے دعوؤں کو مسترد کیا گیا حکام کے مطابق بعض مقامات پر کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاجی عناصر نے آزاد کشمیر آنے والے سامان سے لدے ٹرکوں کو روکنے اور لوٹنے کی کوشش کی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے گاڑیوں اور سامان کو محفوظ بنایا۔

حکام کا مؤقف ہے کہ تمام اہم شاہراہیں مختلف اقسام کی ٹریفک کے لیے کھلی رہیں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل جاری رہی پولیس یا انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو خوراک، ادویات یا ایندھن ضائع کرنے پر مجبور کرنے کے دعوے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

دستیاب معلومات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذکورہ الزام کی تائید کے لیے آزادانہ اور قابلِ تصدیق شواہد موجود نہیں ہیں، جبکہ سرکاری اداروں نے اس دعوے کی واضح طور پر تردید کی ہے۔ لہٰذا بی بی سی کی یہ سٹوری سراسر جھوٹ پر مبنی ہے ۔

editor

Related Articles