بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ’فالس فلیگ ‘ کے بعد پورے بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمانوں پر تشدد اور انتشار بڑھنے لگا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت جو چاہتی تھی وہی کچھ ہندوستان میں ہونے لگا ہے، پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گیا ہے جس کی مثال نینی تال میں سامنے آئی جہاں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کی دکانوں کو توڑا اور لوٹ مار کی جبکہ پولیس خاموشی سے سارا معاملہ سامنے کھڑی دیکھتی رہی۔
میڈیا اور یوٹیوب چینلز کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں کی درندگی کے خلاف بھارتی شہری شاہیلہ نگی نے بھرپور انداز میں آواز اٹھائی ہے، شاہیلہ نگی ہجوم کے سامنے ڈٹ گئی اور دکانوں کو بچانے کی کوشش کی، شاہیلا نگی کو مسلمانوں کا ساتھ دینے پر انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے دھمکیاں بھی ملنا شروع ہو گئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں شاہیلا نگی کی مد بھیڑ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں وہ ہجوم سے کہتی ہیں کہ میں بھی بھارتی شہری ہوں تم کون ہوتے ہو مجھے خاموش کرنے والے، کیا یہ ہے آپ کا ہندو دھرم؟ آپ معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہو۔
شاہیلا نگی نے بعد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ پہلگام میں جو ہوا اسے انتہا پسند ہندو ہتھیار بنا کر دنگا فساد کر رہے ہیں، انتہا پسند اپنی سوچ دیکھیے یہ تمہاری سوچ ہے جو تمھیں سڑکوں پر لے آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتہا پسند ہندوؤں کا مقصد صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور دنگا فساد کرنا ہے، سچ بولنے پر مجھے انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے ریپ کی دھمکیاں مل رہی ہیں، میں نہیں ڈروں گی کیونکہ سچ کی طاقت میرے ساتھ ہے۔
شاہیلا نگی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں کی سوچ نے پورے بھارت کو لپیٹ میں لے لیا، مودی کی لگائی گئی آگ اسے خود ہی جلا کر راکھ کر دے گی۔